ڈونلڈ ٹرمپ نے 175 ارب ڈالرز کے ‘گولڈن ڈوم’ دفاعی منصوبے کا اعلان کردیا، یہ منصوبہ مختلف کیوں ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘گولڈن ڈوم’ نامی نئے دفاعی منصوبے کا افتتاح کردیا ہے جو یزائلوں پر مبنی نظام پر مشتمل ہے۔
اس منصوبے کی لاگت تقریباً 175 ارب ڈالر بتائی گئی ہے اور اس کا مقصد امریکی سرزمین کو خلا میں مصنوعی سیاروں کے ذریعے میزائل حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ نظام چین اور روس جیسے ممالک سے ممکنہ خطرات کے خلاف مددگار ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن ’بنیان مرصوص‘ میں شاہین میزائل استعمال نہیں کیا گیا، پاکستان نے بھارتی دعوؤں کو مسترد کردیا
ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ انہوں نے اس نظام کے لیے ایک ڈیزائن منتخب کیا ہے اور اسپیس فورس کے جنرل مائیکل گیوٹلین، کو اس منصوبے کی قیادت سونپی ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ یہ تقریباً 175 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور اسے مکمل کرنے میں کئی سال لگیں گے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کینیڈا نے اس نظام میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گولڈن ڈوم کا تصور اسرائیل کے ‘آئرن ڈوم’ دفاعی نظام سے متاثر ہے، مگر یہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوگا۔ اس نظام میں 100 سے زائد مصنوعی سیارے شامل ہوں گے جس کے تحت دشمن ملک سے آنے والے میزائل کی نگرانی، ٹریکنگ اور نشانہ بنانے کے لیے ایک جدید نیٹ ورک تیار کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی اسلحہ بلوچستان میں استعمال ہورہا ہے، دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز
صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کو سیاسی مخالفین کی طرف سے تنقید اور فنڈنگ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، خاص طور پر اس میں ٹرمپ کے دیرینہ ساتھی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی شرکت پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔
یہ منصوبہ امریکہ کی فوجی حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، اور اس کا مقصد امریکا کو ممکنہ میزائل حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا دفاعی منصوبہ ڈونلڈ ٹرمپ گولڈن ڈوم میزائل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا دفاعی منصوبہ ڈونلڈ ٹرمپ گولڈن ڈوم گولڈن ڈوم اور اس
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔