واٹس ایپ پر یک سطری پیغام موصول ہوا ‘حکومت نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے رینک پر ترقی دیدی’، جسے پڑھ کر ٹھیک ٹھاک جھٹکا لگا۔ سبب اس جھٹکے کا یہ تھا کہ پچھلے 3 دن سے ٹویٹر پر کچھ معروف پٹواری خاصے بےچین تھے اور بے چینی کی وجہ یہ اطلاعات تھیں کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ساتھ ‘سیز فائر’ ہوچکا اور اب فریقین کانفیڈنس بلڈنگ کی طرف جائیں گے۔
جب سیاسی پس منظر اس طرح کا ہو اور قومی تاریخ کا واحد فیلڈ مارشل ایسا گزرا ہو جو عسکری لطائف یاد دلاتا ہو تو جھٹکا تو بنتا تھا۔ چلیے پہلے آپ کو فیلڈ مارشل رینک سے جڑے چند معروف لطائف سناتے ہیں پھر اس بات کی جانب آئیں گے کہ جنرل عاصم منیر لطائف والے فیلڈ مارشل بننے جا رہے ہیں یا حقیقی فیلڈ مارشل۔
انڈین فیلڈ مارشل مانک شاہ سے صحافی نے پوچھا
‘سر آپ فیلڈ مارشل بن گئے۔ اب آپ کیا کریں گے؟’
مانک شاہ نے دکھی لہجے میں جواب دیا
‘اب میں صرف شادیوں اور جنازوں میں شرکت کیا کروں گا’
اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں برطانوی ملٹری میسز میں کہا جاتا کہ ‘فیلڈ مارشل فرنچ ملٹری کے اس افسر کو کہتے ہیں جس کے ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے ہاتھ میں سرنڈر کا سفید جھنڈا ہو’۔
خود فرانس میں فیلڈ مارشل کی تعریف مزید دلچسپ تھی۔ وہاں کہا جاتا تھا کہ ‘فیلڈ مارشل وہ ہوتا ہے جو جنگ تو جیتتا ہے مگر جنگ کے 20 سال بعد لکھی گئی اپنی کتاب میں’۔
امریکی ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ میں آج کل کے کیڈٹس کہتے ہیں کہ ‘فائیو اسٹار جنرل وہ ہوتا ہے جسے اس کا جی پی ایس ہیڈ کوارٹر سے باہر جانے نہیں دیتا اور ہیڈ کوارٹر میں بھی اگر وہ اِدھر اُدھر نکل جائے تو جی پی ایس اسے واپس اس کے پاور پوائنٹ تک لے آتا ہے’۔
ایک جرمن میم کے مطابق فیلڈ مارشل ملٹری کا آخری رینک نہیں ہے۔ ہر فیلڈ مارشل کچھ عرصے بعد ‘مؤرخ’ کے رینک پر پروموٹ ہوجاتا ہے۔ یہ میم یوں تراشی گئی کہ بیشتر فیلڈ مارشل عسکری مصنف ضرور بنے۔
یہ تو ہوئے فیلڈ مارشل سے متعلق دنیا بھر سے چند مشہور لطائف جو معروف بھی عسکری حلقوں میں ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عاصم منیر بھی لطیفوں والے فیلڈ مارشل بنائے گئے ہیں؟
اس سوال کی نوبت یوں آئی کہ پاکستان اور انڈین آرمی کا ڈی این اے رائیل برٹش آرمی کا ہے اور برطانوی ملٹری تاریخ میں کوئی 150 کے قریب فیلڈ مارشل گزرے ہیں جن میں سے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے سرے سے کوئی جنگ ہی نہ لڑی تھی۔ گویا اعزازی فیلڈ مارشل والی ریوڑیاں بانٹنے کا رواج وہاں بہت ہی عام رہا۔
یہ اسی ڈی این اے کا اثر تھا کہ ایوب خان نے بھی اس روایت کا فائدہ اٹھا لیا۔ ایسے تاریخی پس منظر میں خدشہ یہی ابھر سکتا ہے کہ کہیں عاصم منیر کو بھی پانچ ستارہ جنرل بناکر جنازوں اور شادیوں کی تقریبات کے لیے تو وقف نہیں کیا جارہا؟
مگر صد شکر کہ یہ خدشہ بس خدشہ ہی رہ گیا۔ عاصم منیر لطیفوں والے نہیں بلکہ وہ فیلڈ مارشل بنائے گئے ہیں جن کے پاس فوج کی کمان بھی ہوتی ہے۔ ایسے فیلڈ مارشل دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا، برطانیہ، سوویت یونین اور جرمنی میں بکثرت دیکھے گئے۔ بلکہ جرمنی میں تو صورتحال یہ ہوگئی تھی کہ فوجی حلقوں میں یہ جملہ مشہور ہوگیا تھا کہ ‘ایک ہی جگہ کئی فیلڈ مارشل جمع ہوجائیں تو کیاس پیدا ہوجاتا ہے’۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ 22 اپریل کے بعد والی صورتحال میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 2 حوالوں سے شاندار مثال قائم کی ہے۔ پہلا حوالہ یہ کہ وہ بالکل واضح اور غیر متزلزل تھے۔ کسی بھی اینگل سے ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ کنفیوژن یا افراتفری کے شکار ہیں۔ دوسرا حوالہ یہ کہ وہ جو کسی ملٹری نغمے کا بول تھا ‘فوج اور عوام ایک’ انہوں نے اسے عملاً کرکے دکھا دیا، اور وہ یوں کہ ایک طرف آئی ایس پی آر پورے تسلسل کے ساتھ قوم کو اپڈیٹ رکھ رہی تھی وہ بھی پوری ٹرانسپیرنسی کے ساتھ۔ جبکہ دوسری طرف 10 مئی کو سورج نکلنے کے بعد جو فتح ون میزائل داغے جا رہے تھے، ان کے بہت قریب پبلک بھی موجود رہی تھی اور فوج نے انہیں دور جانے کا نہیں کہا بلکہ اس قربت کو قبول کیا۔ یوں اس روز گویا فوج اور عوام عملاً شانہ بشانہ تھے۔
چنانچہ نہ تو ان جھڑپوں کے دوران اور بعد ہر مرحلے پر قوم مکمل یکسو تھی۔ کوئی افراتفری یا کنفیوژن قومی سطح پر بھی نظر نہ آئی۔ کسی بھی حلقے میں ایسے سوال زیر گردش نہ تھے جنہیں اپنے جوابات کی تلاش ہو۔
پاکستانی قوم کے لیے یہ لڑائی کسی لائیو میچ کی طرح رہی۔ آئی ایس پی آر نے مناظر ہی نہیں دکھائے بلکہ جو نظروں سے اوجھل تھا اس سے متعلق بھی بالکل درست حقائق سے آگاہ کیا۔ حتیٰ کہ اپنے کسی بیس پر حملے کی خبر کو بھی چھپایا نہیں۔
اس کے برخلاف اگر آپ انڈیا کا حال دیکھیں تو ان کی وزارتِ دفاع نے معلومات کے حوالے سے جو خلا پیدا کردیا تھا اسے جلد ہی انڈین میڈیا نے ایسے بلیک ہول شکل دیدی جو انڈین بیانیہ ہی نہیں بلکہ ساکھ اور بھرم بھی نگل گیا۔ نتیجہ یہ کہ آج وہ پوری دنیا میں تماشا بن کر رہ گئے ہیں۔
بدنامی صرف ان کے میڈیا کے ہی حصے میں نہیں آئی بلکہ صورتحال یہ ہے کہ انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے چند دوست ممالک کو بند کمرہ بریفنگ دی ہے۔ اس بریفنگ سے لوٹنے والے سفارتکاروں نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ بریفنگ میں جو دعوے کیے گئے ان کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔
سیز فائر کو 12 دن ہوگئے مگر انڈیا اب بھی کوئی جامع ملٹری پریس بریفنگ دینے کی ہمت نہیں کررہا۔ بتانے کے لیے جھوٹ کے سوا کوئی آپشن نہیں اور خوف یہ ہے کہ اگر وہ آفیشل پریس کانفرنس میں کوئی جھوٹا دعویٰ کردیں یا کسی چیز کی نفی کردیں تو کہیں آئی ایس پی آر ایسے ثبوت نہ شو کردے جو اس نے کسی ایسے موقع کے لیے سنبھال رکھے ہوں گے اور ان کا یہ خدشہ بے جا نہیں۔
ہم سب جانتے ہی ہیں کہ چائنیز آئی ایس آر کی سہولت ہمیں میسر تھی۔ ہم خلائی آنکھ سے میدان جنگ کو دیکھ رہے تھے۔ ہر ہر ہدف کی حملے سے قبل اور بعد کی تصاویر موجود ہیں۔ حتیٰ کہ پاک فضائیہ اور انڈین ایئرفورس کی 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب والی جھڑپ کا سگنل ڈیٹا اور ریڈار سیگنیچرز تک موجود ہیں۔ گویا انڈیا پاکستانی میزائلوں اور طیاروں کے ہی نہیں بلکہ آئی ایس پی آر کے خوف سے بھی تاحال جان نہیں چھڑا سکا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے مین اسٹریم میڈیا کو انہوں نے ایک ریڈ لائن کھینچ کر دیدی ہے کہ اگر کسی نے اسے عبور کیا تو ایسے اخبار اور ٹی وی چینل کو بند کردیا جائے گا۔ وہ ریڈ لائن یہ ہے کہ 10 مئی کا تو سرے سے ذکر ہی نہیں کرنا۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے متعلق بس یہ کہنا ہے کہ انڈیا نے آتنک وادیوں کے ٹھکانے تباہ کیے اور اس کے بعد سیدھا 9 مئی پر آکر پاکستانی ایئربیسز پر حملے کا ڈھول پیٹنا ہے اور اس کا سبب پاکستانی ڈرونز کی انڈیا آمد بتانی ہے۔
اس ریڈ لائن نے صورتحال ان کے لیے اتنی مضحکہ خیز بنادی ہے کہ ری پبلک ٹی وی پر ارناب گوسوامی اور مشہور ملٹری کامیڈین جی ڈی بخشی جلوہ افروز ہوئے۔ ارناب نے پوچھا، بخشی جی کیا موجودہ صورتحال میں انڈیا سپر پاور ثابت ہوا کہ نہیں؟ کامیڈین بخشی نے جواب دیا ‘جی بالکل ہوگیا ہے، ایس 400، آکاش میزائل، اے آئی اور ہمارے سٹیلائٹ نے ثابت کردیا کہ ہم سپر پاور ہیں’۔
مضحکہ خیزی اس میں یہ رہی کہ اسکرپٹ تو انہیں پکڑا دیا گیا مگر ہدایتکار یہ ہدایت دینا بھول گیا کہ یہ سب کہتے ہوئے چہرے پر خوشی اور آواز میں جوش نظر آنا چاہیے۔ معاملہ اس کے برعکس یہ رہا کہ دونوں کی آواز ہی نہیں بجھے چہروں سے بھی یوں لگ رہا تھا جیسے ایک کے ابّا حضور اور دوسرے کی امّاں جان ایک ہی ‘فضائی حادثے’ میں چل بسے ہوں۔ گویا صورتحال یہ ہے کہ مودی کے ہوش صرف زمینی اہداف، فضائی جھڑپ میں ہی نہیں اڑائے گئے بلکہ انفارمشن وار میں بھی اس لمحہ موجود تک پاکستان کی ان پر برتری قائم ہے۔
یہ ہمہ جہت ملٹری حکمت عملی بنانے والے کمانڈر کے لیے فیلڈ مارشل کا رینک تو بنتا ہے۔ ممکن ہے سرحد پار سے کہا جائے کہ بھئی یہ تو سرے سے جنگ ہی نہ تھی۔ بس 2 عدد جھڑپیں تھی۔ محض جھڑپ پر فیلڈ مارشل؟ سو عرض کردیں کہ اگر جھڑپ ہی اتنی مؤثر ہو کہ خطے میں طاقت کا توازن ہی نہ بدل دے بلکہ مغربی وار انڈسٹری کو خطرے سے دوچار کردے تو کیوں نہیں؟
اوپر سے یہ مزہ الگ کہ اب 3 دن تک بھارتی اس غم میں مرے جائیں گے کہ ہائے بھگوان، انہوں نے تو قرآن مجید کی آیات پڑھنے والے کو فیلڈ مارشل بنا دیا۔ پھر بقول موذی جی آپریشن ابھی جاری ہے بس وقفہ لیا گیا ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ یہ کرکٹ میچ والا وقفہ نہیں جو مقررہ وقت پر دونوں ٹیموں نے لینا ہی ہوتا ہے بلکہ یہ باسکٹ بال والا ‘ٹائم آؤٹ’ ہے جو شکست سے دوچار ٹیم کو بار بار لینا پڑتا ہے۔ سو اس وقفے میں ہماری جانب سے یہ فیلڈ مارشل پروموشن سائیکالوجیکل وار فیئر کا کرارا وار بھی ثابت ہوگا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل یہ ہے کہ ہی نہیں کے ساتھ کے لیے ہیں کہ تھا کہ
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔