واٹس ایپ پر یک سطری پیغام موصول ہوا ‘حکومت نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے رینک پر ترقی دیدی’، جسے پڑھ کر ٹھیک ٹھاک جھٹکا لگا۔ سبب اس جھٹکے کا یہ تھا کہ پچھلے 3 دن سے ٹویٹر پر کچھ معروف پٹواری خاصے بےچین تھے اور بے چینی کی وجہ یہ اطلاعات تھیں کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ساتھ ‘سیز فائر’ ہوچکا اور اب فریقین کانفیڈنس بلڈنگ کی طرف جائیں گے۔
جب سیاسی پس منظر اس طرح کا ہو اور قومی تاریخ کا واحد فیلڈ مارشل ایسا گزرا ہو جو عسکری لطائف یاد دلاتا ہو تو جھٹکا تو بنتا تھا۔ چلیے پہلے آپ کو فیلڈ مارشل رینک سے جڑے چند معروف لطائف سناتے ہیں پھر اس بات کی جانب آئیں گے کہ جنرل عاصم منیر لطائف والے فیلڈ مارشل بننے جا رہے ہیں یا حقیقی فیلڈ مارشل۔
انڈین فیلڈ مارشل مانک شاہ سے صحافی نے پوچھا
‘سر آپ فیلڈ مارشل بن گئے۔ اب آپ کیا کریں گے؟’
مانک شاہ نے دکھی لہجے میں جواب دیا
‘اب میں صرف شادیوں اور جنازوں میں شرکت کیا کروں گا’
اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں برطانوی ملٹری میسز میں کہا جاتا کہ ‘فیلڈ مارشل فرنچ ملٹری کے اس افسر کو کہتے ہیں جس کے ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے ہاتھ میں سرنڈر کا سفید جھنڈا ہو’۔
خود فرانس میں فیلڈ مارشل کی تعریف مزید دلچسپ تھی۔ وہاں کہا جاتا تھا کہ ‘فیلڈ مارشل وہ ہوتا ہے جو جنگ تو جیتتا ہے مگر جنگ کے 20 سال بعد لکھی گئی اپنی کتاب میں’۔
امریکی ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ میں آج کل کے کیڈٹس کہتے ہیں کہ ‘فائیو اسٹار جنرل وہ ہوتا ہے جسے اس کا جی پی ایس ہیڈ کوارٹر سے باہر جانے نہیں دیتا اور ہیڈ کوارٹر میں بھی اگر وہ اِدھر اُدھر نکل جائے تو جی پی ایس اسے واپس اس کے پاور پوائنٹ تک لے آتا ہے’۔
ایک جرمن میم کے مطابق فیلڈ مارشل ملٹری کا آخری رینک نہیں ہے۔ ہر فیلڈ مارشل کچھ عرصے بعد ‘مؤرخ’ کے رینک پر پروموٹ ہوجاتا ہے۔ یہ میم یوں تراشی گئی کہ بیشتر فیلڈ مارشل عسکری مصنف ضرور بنے۔
یہ تو ہوئے فیلڈ مارشل سے متعلق دنیا بھر سے چند مشہور لطائف جو معروف بھی عسکری حلقوں میں ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عاصم منیر بھی لطیفوں والے فیلڈ مارشل بنائے گئے ہیں؟
اس سوال کی نوبت یوں آئی کہ پاکستان اور انڈین آرمی کا ڈی این اے رائیل برٹش آرمی کا ہے اور برطانوی ملٹری تاریخ میں کوئی 150 کے قریب فیلڈ مارشل گزرے ہیں جن میں سے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے سرے سے کوئی جنگ ہی نہ لڑی تھی۔ گویا اعزازی فیلڈ مارشل والی ریوڑیاں بانٹنے کا رواج وہاں بہت ہی عام رہا۔
یہ اسی ڈی این اے کا اثر تھا کہ ایوب خان نے بھی اس روایت کا فائدہ اٹھا لیا۔ ایسے تاریخی پس منظر میں خدشہ یہی ابھر سکتا ہے کہ کہیں عاصم منیر کو بھی پانچ ستارہ جنرل بناکر جنازوں اور شادیوں کی تقریبات کے لیے تو وقف نہیں کیا جارہا؟
مگر صد شکر کہ یہ خدشہ بس خدشہ ہی رہ گیا۔ عاصم منیر لطیفوں والے نہیں بلکہ وہ فیلڈ مارشل بنائے گئے ہیں جن کے پاس فوج کی کمان بھی ہوتی ہے۔ ایسے فیلڈ مارشل دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا، برطانیہ، سوویت یونین اور جرمنی میں بکثرت دیکھے گئے۔ بلکہ جرمنی میں تو صورتحال یہ ہوگئی تھی کہ فوجی حلقوں میں یہ جملہ مشہور ہوگیا تھا کہ ‘ایک ہی جگہ کئی فیلڈ مارشل جمع ہوجائیں تو کیاس پیدا ہوجاتا ہے’۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ 22 اپریل کے بعد والی صورتحال میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 2 حوالوں سے شاندار مثال قائم کی ہے۔ پہلا حوالہ یہ کہ وہ بالکل واضح اور غیر متزلزل تھے۔ کسی بھی اینگل سے ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ کنفیوژن یا افراتفری کے شکار ہیں۔ دوسرا حوالہ یہ کہ وہ جو کسی ملٹری نغمے کا بول تھا ‘فوج اور عوام ایک’ انہوں نے اسے عملاً کرکے دکھا دیا، اور وہ یوں کہ ایک طرف آئی ایس پی آر پورے تسلسل کے ساتھ قوم کو اپڈیٹ رکھ رہی تھی وہ بھی پوری ٹرانسپیرنسی کے ساتھ۔ جبکہ دوسری طرف 10 مئی کو سورج نکلنے کے بعد جو فتح ون میزائل داغے جا رہے تھے، ان کے بہت قریب پبلک بھی موجود رہی تھی اور فوج نے انہیں دور جانے کا نہیں کہا بلکہ اس قربت کو قبول کیا۔ یوں اس روز گویا فوج اور عوام عملاً شانہ بشانہ تھے۔
چنانچہ نہ تو ان جھڑپوں کے دوران اور بعد ہر مرحلے پر قوم مکمل یکسو تھی۔ کوئی افراتفری یا کنفیوژن قومی سطح پر بھی نظر نہ آئی۔ کسی بھی حلقے میں ایسے سوال زیر گردش نہ تھے جنہیں اپنے جوابات کی تلاش ہو۔
پاکستانی قوم کے لیے یہ لڑائی کسی لائیو میچ کی طرح رہی۔ آئی ایس پی آر نے مناظر ہی نہیں دکھائے بلکہ جو نظروں سے اوجھل تھا اس سے متعلق بھی بالکل درست حقائق سے آگاہ کیا۔ حتیٰ کہ اپنے کسی بیس پر حملے کی خبر کو بھی چھپایا نہیں۔
اس کے برخلاف اگر آپ انڈیا کا حال دیکھیں تو ان کی وزارتِ دفاع نے معلومات کے حوالے سے جو خلا پیدا کردیا تھا اسے جلد ہی انڈین میڈیا نے ایسے بلیک ہول شکل دیدی جو انڈین بیانیہ ہی نہیں بلکہ ساکھ اور بھرم بھی نگل گیا۔ نتیجہ یہ کہ آج وہ پوری دنیا میں تماشا بن کر رہ گئے ہیں۔
بدنامی صرف ان کے میڈیا کے ہی حصے میں نہیں آئی بلکہ صورتحال یہ ہے کہ انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے چند دوست ممالک کو بند کمرہ بریفنگ دی ہے۔ اس بریفنگ سے لوٹنے والے سفارتکاروں نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ بریفنگ میں جو دعوے کیے گئے ان کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔
سیز فائر کو 12 دن ہوگئے مگر انڈیا اب بھی کوئی جامع ملٹری پریس بریفنگ دینے کی ہمت نہیں کررہا۔ بتانے کے لیے جھوٹ کے سوا کوئی آپشن نہیں اور خوف یہ ہے کہ اگر وہ آفیشل پریس کانفرنس میں کوئی جھوٹا دعویٰ کردیں یا کسی چیز کی نفی کردیں تو کہیں آئی ایس پی آر ایسے ثبوت نہ شو کردے جو اس نے کسی ایسے موقع کے لیے سنبھال رکھے ہوں گے اور ان کا یہ خدشہ بے جا نہیں۔
ہم سب جانتے ہی ہیں کہ چائنیز آئی ایس آر کی سہولت ہمیں میسر تھی۔ ہم خلائی آنکھ سے میدان جنگ کو دیکھ رہے تھے۔ ہر ہر ہدف کی حملے سے قبل اور بعد کی تصاویر موجود ہیں۔ حتیٰ کہ پاک فضائیہ اور انڈین ایئرفورس کی 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب والی جھڑپ کا سگنل ڈیٹا اور ریڈار سیگنیچرز تک موجود ہیں۔ گویا انڈیا پاکستانی میزائلوں اور طیاروں کے ہی نہیں بلکہ آئی ایس پی آر کے خوف سے بھی تاحال جان نہیں چھڑا سکا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے مین اسٹریم میڈیا کو انہوں نے ایک ریڈ لائن کھینچ کر دیدی ہے کہ اگر کسی نے اسے عبور کیا تو ایسے اخبار اور ٹی وی چینل کو بند کردیا جائے گا۔ وہ ریڈ لائن یہ ہے کہ 10 مئی کا تو سرے سے ذکر ہی نہیں کرنا۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے متعلق بس یہ کہنا ہے کہ انڈیا نے آتنک وادیوں کے ٹھکانے تباہ کیے اور اس کے بعد سیدھا 9 مئی پر آکر پاکستانی ایئربیسز پر حملے کا ڈھول پیٹنا ہے اور اس کا سبب پاکستانی ڈرونز کی انڈیا آمد بتانی ہے۔
اس ریڈ لائن نے صورتحال ان کے لیے اتنی مضحکہ خیز بنادی ہے کہ ری پبلک ٹی وی پر ارناب گوسوامی اور مشہور ملٹری کامیڈین جی ڈی بخشی جلوہ افروز ہوئے۔ ارناب نے پوچھا، بخشی جی کیا موجودہ صورتحال میں انڈیا سپر پاور ثابت ہوا کہ نہیں؟ کامیڈین بخشی نے جواب دیا ‘جی بالکل ہوگیا ہے، ایس 400، آکاش میزائل، اے آئی اور ہمارے سٹیلائٹ نے ثابت کردیا کہ ہم سپر پاور ہیں’۔
مضحکہ خیزی اس میں یہ رہی کہ اسکرپٹ تو انہیں پکڑا دیا گیا مگر ہدایتکار یہ ہدایت دینا بھول گیا کہ یہ سب کہتے ہوئے چہرے پر خوشی اور آواز میں جوش نظر آنا چاہیے۔ معاملہ اس کے برعکس یہ رہا کہ دونوں کی آواز ہی نہیں بجھے چہروں سے بھی یوں لگ رہا تھا جیسے ایک کے ابّا حضور اور دوسرے کی امّاں جان ایک ہی ‘فضائی حادثے’ میں چل بسے ہوں۔ گویا صورتحال یہ ہے کہ مودی کے ہوش صرف زمینی اہداف، فضائی جھڑپ میں ہی نہیں اڑائے گئے بلکہ انفارمشن وار میں بھی اس لمحہ موجود تک پاکستان کی ان پر برتری قائم ہے۔
یہ ہمہ جہت ملٹری حکمت عملی بنانے والے کمانڈر کے لیے فیلڈ مارشل کا رینک تو بنتا ہے۔ ممکن ہے سرحد پار سے کہا جائے کہ بھئی یہ تو سرے سے جنگ ہی نہ تھی۔ بس 2 عدد جھڑپیں تھی۔ محض جھڑپ پر فیلڈ مارشل؟ سو عرض کردیں کہ اگر جھڑپ ہی اتنی مؤثر ہو کہ خطے میں طاقت کا توازن ہی نہ بدل دے بلکہ مغربی وار انڈسٹری کو خطرے سے دوچار کردے تو کیوں نہیں؟
اوپر سے یہ مزہ الگ کہ اب 3 دن تک بھارتی اس غم میں مرے جائیں گے کہ ہائے بھگوان، انہوں نے تو قرآن مجید کی آیات پڑھنے والے کو فیلڈ مارشل بنا دیا۔ پھر بقول موذی جی آپریشن ابھی جاری ہے بس وقفہ لیا گیا ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ یہ کرکٹ میچ والا وقفہ نہیں جو مقررہ وقت پر دونوں ٹیموں نے لینا ہی ہوتا ہے بلکہ یہ باسکٹ بال والا ‘ٹائم آؤٹ’ ہے جو شکست سے دوچار ٹیم کو بار بار لینا پڑتا ہے۔ سو اس وقفے میں ہماری جانب سے یہ فیلڈ مارشل پروموشن سائیکالوجیکل وار فیئر کا کرارا وار بھی ثابت ہوگا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل یہ ہے کہ ہی نہیں کے ساتھ کے لیے ہیں کہ تھا کہ
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی