سہیل خان پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔ وہ پی پی 240 بہاولنگر سے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ تاہم یہ ذہن میں رکھیئے کہ وہ سنی اتحاد کونسل یا تحریک انصاف والے آزاد امیدوار نہیں تھے۔
وہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں سیاسی جماعتوں کے نمایندوں کو ہرا کر منتخب ہوئے ہیں۔اس لیے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ حقیقی آزاد رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔بعد میں انھوں نے مسلم لیگ (ن) کو جوائن کیا تھا۔ وہ ایک صحافی بھی ہیں۔ بہاولنگر میں وہ صحافت بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن اپنے خدمت خلق کی وجہ سے وہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی جیسی بڑی سیاسی جماعتوں کے نمایندوں کو ہرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
سہیل خان کی کہانی بھی عجیب ہے۔ وہ آجکل اپنی خدمت خلق کے جذبہ کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ میں نے ان کی کہانی سنی ہے، سوچا آپ کے ساتھ بھی شیئر کروں۔ پانچ جنوری کی بات ہے۔ ان کے حلقے میں مسافر بس اور کوسٹر کا حادثہ ہوا، چار لوگوں موقع پر ہی جان سے چلے گئے جب کہ کئی زخمی ہوئے۔ یہ ایک المناک حادثہ تھا۔میں نے اس حادثے کی رپورٹ دیکھی ہے،اس میں لکھا ہے کہ یہ المناک حادثہ بس ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔
بہر حال جب اس ایکسیڈنٹ کی خبر علاقے کے ایم پی اے سہیل خان کو ملی تو وہ حلقے میں موجود تھے۔ وہ فوری موقع پر پہنچے، زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کا بندو بست کیا۔ اپنی گاڑیوں کو بھی زخمیوں کو استعمال کیا۔ اس کاوش کی وجہ سے کچھ جانیں بچ بھی گئیں۔
زخمیوں کو علاج کی سہولت یقینی بنانے کے بعد ایم پی اے صاحب حادثے میں جاں بحق ہوجانے والوں کی تدفین میں لگ گئے۔ وہ درد دل رکھنے والے انسان ہیں ورنہ جائے وقوعہ کے دورے کے بعد وہ گھر جا سکتے تھے اور چند روز کے بعد پروٹوکول کے ساتھ مرحومین کے لواحقین سے تعزیت کے لیے ان کے گھروں میں جا سکتے تھے۔ لیکن سہیل خان ایسا نہیںکیا۔ وہ اس ایکسیڈنٹ سے کافی رنجیدہ تھے۔ انھیں لوگوں کے مرنے کا بہت دکھ تھا۔
اس ایکسیڈنٹ کے بعد سہیل خان نے پولیس کے اعلیٰ عہدیدارن سے کہا کہ علاقہ میں بہت ایکسیڈنٹ ہو رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ڈرائیورز کی غیر ذمے دارانہ ڈرائیونگ ہے ۔ لیکن ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غیر معیاری بسیں بھی علاقہ میں چل رہی ہیں۔ ان بسوں کا فٹنس سرٹفکیٹ نہیں ہے۔
انھوں نے پولیس سے کہا کہ سڑکوں پر بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے چلنے والوں بسوں کو بند کیا جائے۔ سہیل خان کا یہ موقف ہے کہ عالمی معیار یہی ہے کہ بس کے ڈرائیور کی سیٹ نیچی ہوتی ہے تاکہ وہ سڑک کے برابر ہوں۔ یہ جو بسوں کے ڈھانچے پاکستان میں بنتے ہیں ان میں ڈرائیور کی سیٹ اونچی بنا دی جاتی ہے۔ جو خلاف قانون ہے۔ سہیل خان کا موقف ہے کہ ایسی بسیں جن کے ڈرائیور کی سیٹ اونچی ہے، انھیں سڑک پر چلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
سہیل خان نے اس ضمن میں پنجاب اسمبلی میں ایک دھواں دھار تقریر کی بھی کی ۔ انھوں نے ایکسیڈنٹس کی تفصیل بھی پنجاب اسمبلی میں پیش کی۔ ان کی تقریر بس مالکان کو پسند نہیں آئی ، انھیں ہاتھ ہلکا رکھنے کے لیے سفارشیں آئیں۔
ان کے ساتھی ان کو سفارشیں کرنے لگے۔ لیکن جس تواتر سے ٹریفک حادثے ہورہے ہیں اور جتنی بڑی تعداد میں مسافروں کی اموات ہورہی ہیں، انھیں دیکھتے ہوئے عوام کے منتخب نمایندوں کو بھی تو کچھ نہ کچھ احساس ہونا چاہیے اور جتنا ہو سکے ، وہ حکومت کو آگاہ کریں کہ ٹریفک حادثات کس طرح ہوتے ہیں؟ کیوں ہوتے ہیں ؟ ذمے دارکون ہے؟ اور ان حادثات کی روک تھام کیسے ہوسکتی ہے؟ ایم پی اے سہیل خان کے خیال میں وہ حق بات کررہے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کی جانوں معاملہ ہے۔ اس لیے کوئی لچک نہیں ہونی چاہیے۔
اب آگے سنیئے!11مئی کو ایم پی اے سہیل خان کا بیٹا اپنی گاڑی میں جا رہا تھا کہ ایک بس نے گاڑی کو بری طرح ٹکر مار دی، ایم پی اے سہیل خان کا بیٹا شدید زخمی ہوا۔ سہیل خان کی رائے میں جب وہ ٹریفک حادثاث کے حوالے سے اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹ رہے تو انھیں سخت پیغام دینے کے لیے یہ ایکسیڈنٹ کرا دیا گیا ہے۔
یہ ان کے لیے پیغام ہے کہ خاموش ہو جاؤ ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔ سہیل خان رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔ انھوں نے آزاد جیت کر حکومتی جماعت جوائن کی ہے، میرا خیال ہے کہ ایسی صورتحال میں تو ان کو انصاف ملنا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن مسلہ یہ ہوا ہے کہ ایم پی اے موصوف جس قسم کا پرچہ کرانا چاہتے ہیں، پولیس نے ویسا درج نہیں کیا۔ وہ سمجھتے ہیں ان کے بیٹے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے اوروہ نامزد قتل کرنے کی سازش کا پرچہ درج کرانا چاہتے تھے۔ لیکن مقامی پولیس نے ایکسیڈنٹ کی ہی ایف آئی آر درج کی ہے۔
اس کے بعد سہیل خان نے پنجاب اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروایا۔ اس توجہ دلاؤ نوٹس میں انھوں نے اپنے خاندان پر حملہ کا ذکر کیا۔ لیکن اس توجہ دلاؤ نوٹس سے بھی کچھ نہیں ہوسکا ۔ پھر کیا ہوسکتا ہے، وہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے کاموں کیا ہوتا ہے۔ رکن پنجاب اسمبلی نے صلح کرنے میں ہی عافیت جانی۔ یہ رودار بیان کرنے کا مقصد کسی کو درست یا غلط ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بیان کرنا ہے کہ ہمارا نظام اتنا گیا گزرا ہے کہ ایک ایم پی اے اپنے لیے بھی کچھ نہیں کرسکتا ، یہ ایک واقعہ نہیں ہے۔
ایسا ہمارے معاشرے میں روز ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز پاکستان کا ایک بڑا طاقتور طبقہ ہے۔ اگر نظارہ کرنا ہو تو ٹرک اور بس اڈوں پر جاکر دیکھ لیں، آپ کو لگے کا کہ ان سے طاقتور کوئی نہیں ہے۔ ایک ایم پی اے ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ لیکن پنجاب حکومت کو تو کوئی پالیسی بنانی چاہیے۔ ایک ایم پی اے تو ہوسکتا ہے ، کمزور ہو لیکن حکومت تو کمزور نہیں ہوتی ، ریاست کے سامنے کوئی کچھ نہیں ہوتا۔
پاکستان میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد دہشت گردی کی وارداتوں میں مارے جانے والوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ کراچی میں تو ڈمپرز کی ٹکروں سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوئی ہے کہ وہاں ایم کیو ایم باقاعدہ احتجاج کے لیے باہر نکلی‘ جماعت اسلامی بھی احتجاج کرتی ہے حتی کہ پیپلز پارٹی جس کی حکومت ہے وہ بھی حادثات پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ایسے میں پنجاب میں بسوں اور دیگر موٹر وہیکلز حادثات کی شرح مزید بڑھی تو یہ عوامی احتجا ج کی بھی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی سہیل خان کا ڈرائیور کی والوں کی انھوں نے رہے ہیں نہیں ہے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین