Daily Ausaf:
2026-07-24@06:16:00 GMT

پانچ نکاتی قرآنی فارمولا اور کشمیریوں کا درددل

اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT

موجودہ حالات میں جب کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی شدید ہے، اور دشمن ہر محاذ پر حملہ آور ہے، قرآن کریم، خصوصاً سورۃ الانفال کی آیات 45-46، ہمیں ایک جامع لائحہ عمل دیتی ہیں۔ فاثبتوا:محاذ پر ڈٹے رہو! سرحدی اور نظریاتی یلغار، دشمن کے حملے، جھوٹے بیانیے اور دبائو کے باوجود اپنے دین، اصولوں، اور قومی مفاد پر قائم رہنا، یہی اصل استقامت ہے۔واذکروا اللہ کثِیرا: مادی طاقت کے ساتھ روحانی قوت بھی لازمی ہے۔ ان نازک حالات میں رجوع الی اللہ اور کثرتِ ذکر، نماز، دعا، قرآن اور استغفار کو لازم پکڑنا اور اپنی طاقت پر نہیں بلکہ اللہ پر مکمل بھروسہ رکھنا اصل کامیابی کا راستہ ہے۔
واطِیعوا اللہ ورسولہ:اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی پابندی، گناہوں سے دوری اور مذہبی و عسکری قیادت پر اعتماد، وفاداری اور نظم و ضبط قومی وحدت کی ضمانت ہے۔
ولا تنٰزعوا:آپس کی لڑائی کمزوری ہے۔ لسانی، صوبائی، مسلکی اور سیاسی تعصبات کو چھوڑ کر دشمن کے مقابلے کے لئے ایک صف میں کھڑا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
واصبِروٓا:مصائب میں صبر، اشتعال سے بچنا، جلد بازی کی بجائے دور اندیشی اور حکمت سے فیصلے لینا، یہی دشمن کی چالوں کا موثر توڑ ہے۔محاسبہ کیجئے،کیا آپ ان صفات کے حامل ہیں؟اگر ہم ان پانچ اصولوں پر عمل کریں، تو یقین رکھیں اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہو گی۔اللہ تعالیٰ اہلِ پاکستان کو ایمان، توکل، جرات اور غیرت عطا فرمائے اور قرآنی تعلیمات پر مکمل عمل کی توفیق دے۔مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک بہت ہی محترم کشمیری دوست کے اس درد دل پر اسلام آباد کو توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے،پاک فوج نے حالیہ دنوں میں بدمعاش نریندر مودی اور اس کی بھارتی فوج کو جس عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے،اس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں میں آزادی کی شمع مزید فروزاں ہوئی ہے،کشمیری اپنی مال ،جان،عزت،آبرو کی بے پناہ قربانیوں کے ساتھ آزادی کی قیمت ادا کر رہے ہیں،اس وقت تک ایک لاکھ سے زائد کشمیر کے بچے،بوڑھے اور جوان شہادتوں کے جام پی چکے ہیں،آزادی کے حصول کے لئے کشمیر کی عفت مآب ماں بہنوں ،بیٹیوں کی قربانیاں اس کے علاہ ہیں،اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ ان قربانیوں کی لاج رکھتے ہوئے کشمیریوں کی ہر قسم کی مدد جاری وساری رکھے۔ اب بڑھتے ہیں کشمیری دوست کے درد دل کی طرف ،وہ لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان نے اس معرکے کا حق ادا کردیا اور ہندوستان کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا ہے ۔ گویا افواج پاکستان نے ہم کشمیریوں کے دل پر چالیس سال سے لگنے والے گھا ئوپر ایک مرہم رکھا ہے۔
2019 ء کے محدود ردعمل کے بجائے پاکستان نے اس دفعہ اپنے قیام کے اصلی مقصد کا حق ادا کیا اور پاکستان کی شہ رگ (کشمیر)پر اپنے جائز حق کو ثابت کرنے کے لئے اس معرکے میں اپنے موقف کو تقویت پہنچائی ہے۔اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی نظریاتی سرحدوں کے ساتھ آن بان اور شان سے قائم رکھے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد ہم کشمیریوں کا پہلا اور آخری پشتی بان صرف پاکستان ہی ہے، اور یہ جنگ تکمیل پاکستان کی جنگ ہے۔ تکمیل پاکستان کے لئے کشمیریوں اور پاکستانیوں کو ایک ہی صف میں کھڑا ہوکر جدوجہد کرنی ہے، تب جاکر یہ ادھورا خواب پورا ہوگا۔
پاکستانی افواج کے جرات مندانہ اقدامات سے ہر کشمیری کے دل میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔ جو معرکہ ہمیں 1990ء میں لڑنا چاہیے تھا وہ اگر 2025 ء میں بھی استقامت کے ساتھ لڑا جائے تو آزادی کی تحریکوں میں وقت کے بڑے دورانیے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔آج کا معرکہ اصلی ہدف کی پہلی منزل ہے، اس منزل کو آخری ہدف سمجھ کر بیٹھنا کسی بھی طور ہمارے لئے سود مند نہیں ہے۔کشمیر کے اندر سے یہ خبر ، میں بڑے وثوق اور ذمہ داری سے آپ تک پہنچا رہا ہوں کہ دشمن پر لرزہ طاری ہوگیا ہے۔ کشمیر میں ایمرجنسی کی صورتحال نافذ ہے اور ہندوستان کو بغاوت کا خوف اتنا ستا رہا ہے کہ وہ کوئی بھی خبر باہر آنے ہی نہیں دے رہا، مقامی لوگوں پر قدغنیں اور بڑھا دی گئی ہیں۔ ہندوستان چاہتا ہے کہ اس وقت کسی طرح اپنی ٹانگ بچا کر لے جائے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا اگر ہندوستان سبق سیکھنے والا ملک ہوتا، لیکن وہ اس وقت ٹانگ بچا کر مزید تیاری کرکے مستقبل میں ہم پر اسی طرح کے حالات مسلط کرنے کی کوشش کرے گا۔ کیونکہ برہمن کی سرشت میں یہود کی طرح دھوکہ دہی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔اب اگر اس جنگ کو ختم کرکے ہندوستان بات چیت کی میز پر آنا بھی چاہے، تو خبردار صرف ’’سندھ طاس‘‘معاہدے پر بات نہ کریں، وہ معاہدہ تو کسی بھی صورت یک طرفہ طور پر توڑا نہیں جاسکتا۔ بات کی جائے تو وہ 2019ء میں کشمیر کی حیثیت پر اثرانداز ہونے والے بھارتی فیصلوں پر ہو، اور بنیادی مسئلے کشمیر پر بات ہونی چاہیے۔
خبردار!لمحوں کی خطائیں صدیوں تک معاف نہیں ہوتی۔ یہ لمحہ تاریخ نے ہمارے سامنے پیش کردیا ہے اور یہ تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور ہم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہوگا اگر پاکستان نے جرات مندی کے ساتھ اس لمحے کا استعمال نہ کیا تو…فقط ، پاکستان کی محبت سے سرشار ایک کشمیری!پاکستان پائندہ باد۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان نے کے ساتھ کے لئے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو