پانچ نکاتی قرآنی فارمولا اور کشمیریوں کا درددل
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
موجودہ حالات میں جب کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی شدید ہے، اور دشمن ہر محاذ پر حملہ آور ہے، قرآن کریم، خصوصاً سورۃ الانفال کی آیات 45-46، ہمیں ایک جامع لائحہ عمل دیتی ہیں۔ فاثبتوا:محاذ پر ڈٹے رہو! سرحدی اور نظریاتی یلغار، دشمن کے حملے، جھوٹے بیانیے اور دبائو کے باوجود اپنے دین، اصولوں، اور قومی مفاد پر قائم رہنا، یہی اصل استقامت ہے۔واذکروا اللہ کثِیرا: مادی طاقت کے ساتھ روحانی قوت بھی لازمی ہے۔ ان نازک حالات میں رجوع الی اللہ اور کثرتِ ذکر، نماز، دعا، قرآن اور استغفار کو لازم پکڑنا اور اپنی طاقت پر نہیں بلکہ اللہ پر مکمل بھروسہ رکھنا اصل کامیابی کا راستہ ہے۔
واطِیعوا اللہ ورسولہ:اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی پابندی، گناہوں سے دوری اور مذہبی و عسکری قیادت پر اعتماد، وفاداری اور نظم و ضبط قومی وحدت کی ضمانت ہے۔
ولا تنٰزعوا:آپس کی لڑائی کمزوری ہے۔ لسانی، صوبائی، مسلکی اور سیاسی تعصبات کو چھوڑ کر دشمن کے مقابلے کے لئے ایک صف میں کھڑا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
واصبِروٓا:مصائب میں صبر، اشتعال سے بچنا، جلد بازی کی بجائے دور اندیشی اور حکمت سے فیصلے لینا، یہی دشمن کی چالوں کا موثر توڑ ہے۔محاسبہ کیجئے،کیا آپ ان صفات کے حامل ہیں؟اگر ہم ان پانچ اصولوں پر عمل کریں، تو یقین رکھیں اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہو گی۔اللہ تعالیٰ اہلِ پاکستان کو ایمان، توکل، جرات اور غیرت عطا فرمائے اور قرآنی تعلیمات پر مکمل عمل کی توفیق دے۔مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک بہت ہی محترم کشمیری دوست کے اس درد دل پر اسلام آباد کو توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے،پاک فوج نے حالیہ دنوں میں بدمعاش نریندر مودی اور اس کی بھارتی فوج کو جس عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے،اس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں میں آزادی کی شمع مزید فروزاں ہوئی ہے،کشمیری اپنی مال ،جان،عزت،آبرو کی بے پناہ قربانیوں کے ساتھ آزادی کی قیمت ادا کر رہے ہیں،اس وقت تک ایک لاکھ سے زائد کشمیر کے بچے،بوڑھے اور جوان شہادتوں کے جام پی چکے ہیں،آزادی کے حصول کے لئے کشمیر کی عفت مآب ماں بہنوں ،بیٹیوں کی قربانیاں اس کے علاہ ہیں،اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ ان قربانیوں کی لاج رکھتے ہوئے کشمیریوں کی ہر قسم کی مدد جاری وساری رکھے۔ اب بڑھتے ہیں کشمیری دوست کے درد دل کی طرف ،وہ لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان نے اس معرکے کا حق ادا کردیا اور ہندوستان کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا ہے ۔ گویا افواج پاکستان نے ہم کشمیریوں کے دل پر چالیس سال سے لگنے والے گھا ئوپر ایک مرہم رکھا ہے۔
2019 ء کے محدود ردعمل کے بجائے پاکستان نے اس دفعہ اپنے قیام کے اصلی مقصد کا حق ادا کیا اور پاکستان کی شہ رگ (کشمیر)پر اپنے جائز حق کو ثابت کرنے کے لئے اس معرکے میں اپنے موقف کو تقویت پہنچائی ہے۔اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی نظریاتی سرحدوں کے ساتھ آن بان اور شان سے قائم رکھے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد ہم کشمیریوں کا پہلا اور آخری پشتی بان صرف پاکستان ہی ہے، اور یہ جنگ تکمیل پاکستان کی جنگ ہے۔ تکمیل پاکستان کے لئے کشمیریوں اور پاکستانیوں کو ایک ہی صف میں کھڑا ہوکر جدوجہد کرنی ہے، تب جاکر یہ ادھورا خواب پورا ہوگا۔
پاکستانی افواج کے جرات مندانہ اقدامات سے ہر کشمیری کے دل میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے۔ جو معرکہ ہمیں 1990ء میں لڑنا چاہیے تھا وہ اگر 2025 ء میں بھی استقامت کے ساتھ لڑا جائے تو آزادی کی تحریکوں میں وقت کے بڑے دورانیے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔آج کا معرکہ اصلی ہدف کی پہلی منزل ہے، اس منزل کو آخری ہدف سمجھ کر بیٹھنا کسی بھی طور ہمارے لئے سود مند نہیں ہے۔کشمیر کے اندر سے یہ خبر ، میں بڑے وثوق اور ذمہ داری سے آپ تک پہنچا رہا ہوں کہ دشمن پر لرزہ طاری ہوگیا ہے۔ کشمیر میں ایمرجنسی کی صورتحال نافذ ہے اور ہندوستان کو بغاوت کا خوف اتنا ستا رہا ہے کہ وہ کوئی بھی خبر باہر آنے ہی نہیں دے رہا، مقامی لوگوں پر قدغنیں اور بڑھا دی گئی ہیں۔ ہندوستان چاہتا ہے کہ اس وقت کسی طرح اپنی ٹانگ بچا کر لے جائے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا اگر ہندوستان سبق سیکھنے والا ملک ہوتا، لیکن وہ اس وقت ٹانگ بچا کر مزید تیاری کرکے مستقبل میں ہم پر اسی طرح کے حالات مسلط کرنے کی کوشش کرے گا۔ کیونکہ برہمن کی سرشت میں یہود کی طرح دھوکہ دہی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔اب اگر اس جنگ کو ختم کرکے ہندوستان بات چیت کی میز پر آنا بھی چاہے، تو خبردار صرف ’’سندھ طاس‘‘معاہدے پر بات نہ کریں، وہ معاہدہ تو کسی بھی صورت یک طرفہ طور پر توڑا نہیں جاسکتا۔ بات کی جائے تو وہ 2019ء میں کشمیر کی حیثیت پر اثرانداز ہونے والے بھارتی فیصلوں پر ہو، اور بنیادی مسئلے کشمیر پر بات ہونی چاہیے۔
خبردار!لمحوں کی خطائیں صدیوں تک معاف نہیں ہوتی۔ یہ لمحہ تاریخ نے ہمارے سامنے پیش کردیا ہے اور یہ تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور ہم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہوگا اگر پاکستان نے جرات مندی کے ساتھ اس لمحے کا استعمال نہ کیا تو…فقط ، پاکستان کی محبت سے سرشار ایک کشمیری!پاکستان پائندہ باد۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستان نے کے ساتھ کے لئے
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔