نئی اتھارٹی کے قیام سے 25 ارب ڈالر کی غیر رسمی کرپٹو مارکیٹ کو ضابطے میں لایا جائے گا، جبکہ قومی اثاثوں اور حکومتی قرضوں کی ٹوکنائزیشن کو ممکن بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل دوڑ میں سنگاپور، یو اے ای اور جاپان جیسے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پاکستان نے ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ کار کیلئے "پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ جات اتھارٹی‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ نے اتھارٹی کے قیام کی باقاعدہ منظوری دیدی ہے، جو ڈیجیٹل اور ورچوئل اثاثوں کی نگرانی، ریگولیشن اور لائسنسنگ کے امور سرانجام دے گی۔ نئی اتھارٹی کے قیام سے 25 ارب ڈالر کی غیر رسمی کرپٹو مارکیٹ کو ضابطے میں لایا جائے گا، جبکہ قومی اثاثوں اور حکومتی قرضوں کی ٹوکنائزیشن کو ممکن بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل دوڑ میں سنگاپور، یو اے ای اور جاپان جیسے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔

حکام کے مطابق پی ڈی ڈی اے نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کیلئے بلاک چین ٹیکنالوجی میں نئے مواقع پیدا کرے گی، جبکہ اضافی بجلی کے استعمال سے بٹ کوائن مائننگ کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اتھارٹی بین الاقوامی مالیاتی اداروں خصوصاً فیٹف کے تقاضوں کے مطابق کام کرے گی، جس کا مقصد مالیاتی جدت، سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی سطح پر پاکستان پر اعتماد کو بڑھانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اتھارٹی کے قیام جائے گا

پڑھیں:

ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم