نیا مالی سال:محکمہ بلدیات نے 400 ارب روپے مانگ لئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
ْقیصر کھو کھر:لاہورمیں محکمہ بلدیات پنجاب نے مالی سال 2025-2026 کے بجٹ میں 400 ارب روپے کی ڈیمانڈ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (P&D) ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کر دی ہے۔ بجٹ کا مقصد مختلف ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔
محکمہ بلدیات کے مطابق والڈ سٹی منصوبوں کے لیے 32 ارب روپے درکار ہیں۔مثالی گاؤں منصوبے کے لیے 60 ارب روپے مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے سب سے بڑی رقم یعنی 300 ارب روپے مانگی گئی ہے۔جوہڑوں اور پارکوں کی بحالی کے لیے 5 ارب روپے درکار ہیں۔
خصوصی بچوں کےسکولوں کے اوقات کار میں کمی
یونین کونسل دفاتر کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قبرستانوں کی چار دیواری کے لیے 3 ارب روپے بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ بجٹ مطالبات شہری سہولیات کی بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے پیشِ نظر تیار کیے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔