ضلعی انتطامیہ کا اجلاس، افغان مہاجرین، تجاوزات کیخلاف اقدامات کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
ڈی سی کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ضلعی افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں انتظامی اُمور، غیر قانونی سرگرمیوں کے تدارک اور مہاجرین سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے ضلعی انتظامیہ کے ذمہ داران کو غیر قانونی مہاجرین، پرائس کنٹرول، تجاوزات اور منی پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ آج ڈی سی کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ضلعی افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں انتظامی اُمور، غیر قانونی سرگرمیوں کے تدارک اور مہاجرین سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) عبداللہ بن عارف، اسسٹنٹ کمشنر (صدر) حمزہ انجم، اسسٹنٹ کمشنر (سریاب) سعد کلیم ظفر کے علاوہ اسپیشل مجسٹریٹس احسام الدین، حسیب سردار اور کبیر نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے اس موقع پر ضلعی افسران کو ہدایت کی کہ انسداد تجاوزات، پرائس کنٹرول اور غیر قانونی سرگرمیوں بشمول منی پیٹرول پمپس، قصاب خانوں، ڈیری فارمز، تندوروں، پولٹری فارمز اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں تیز کی جائیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو اگلے ہفتے کے لئے ٹاسک سونپ دیئے اور روزانہ کی رپورٹس باقاعدگی سے جمع کرانے کی تاکید کی۔ اجلاس کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی سے متعلق ایک جامع آپریشنل پلان بھی ترتیب دیا گیا، جس پر آئندہ دنوں میں عملدرآمد کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔