مزید حملوں کا خدشہ، نیتن یاہو کا دنیا بھر میں اسرائیلی سفارتخانوں کی سکیورٹی بڑھانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم نے دھمکی دی کہ ہم سے نفرت کرنے والوں نے یہ حملہ کیا ہے، جنھیں اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا میں ایک حملے میں 2 اسرائیلی سفارت کاروں کے قتل کے بعد دنیا بھر اسرائیلی سفارت خانوں پر حملوں کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزراعظم نیتن یاہو نے اس حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس میں اہم فیصلے کیے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا دل واشنگٹن میں مرنے والوں کے خاندانوں کے ساتھ ہے۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اس حملے کے بعد ہم فوری طور پر دنیا بھر میں اپنے سفارتخانوں کی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے دھمکی دی کہ ہم سے نفرت کرنے والوں نے یہ حملہ کیا ہے۔ جنھیں اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ یاد رہے کہ واشنگٹن میں یہودی میوزیم کے باہر فائرنگ کے واقعے میں 2 افراد ہلاک ہوگئے، جو اسرائیلی سفارت خانے کے اہلکار تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔