مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر تیزی سے جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
پشاور:
مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔
مہمند ڈیم 213 میٹر بلند دنیا کا پانچواں بلند ترین سی ایف آر ڈی ڈیم ہوگا جس کی تعمیر 2027-28 تک مکمل ہوگی، سیلاب سے بچاؤ میں مہمند ڈیم کلیدی کردار ادا کریگا جس سے سالانہ اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔
مہمند ڈیم دریائے سوات پر صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں تعمیر ہو رہا ہے، پراجیکٹ کے 14 مختلف مقامات پر دن رات تعمیراتی کام جاری ہے جس سے وقت کی بچت بھی ہورہی ہے۔
مہمند ڈیم سیلاب پر قابو پانے، بجلی کی پیداوار، زرعی زمین کی آبپاشی کیلئے مفید ثابت ہوگا۔ منصوبے سے سالانہ 2.
پراجیکٹ سے سالانہ 51 ارب روپے کے فوائد متوقع ہیں جبکہ 18,233 ایکڑ نئی زرعی زمین سیراب ہوگی، پشاور کو روزانہ 30 کروڑ گیلن صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔
پراجیکٹ سے 6,100 نوکریاں پیدا ہوں گی جن میں 400 انجینئرز شامل ہیں، مقامی ترقی کے لیے 4.5 ارب روپے کے سماجی منصوبے بھی رکھے گئے ہیں۔ منصوبے کی کل لاگت 309.56 ارب روپے منظور کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مہمند ڈیم
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا