بھارت کی ہار، پاکستان کی للکار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
جب کوئی دشمن ناکامی، رسوائی اور خجالت کا سامنا کرتا ہے تو وہ انتقام کے شعلوں میں جلتے ہوئے اپنی کمینگی کی آخری حدوں کو چھونے لگتا ہے۔ دنیا بھر میں بے نقاب ہونے، اقلیتوں پر ظلم و ستم، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، اندرونی انتشار، مذہبی جنونیت اور سفارتی سطح پر مکمل ناکامیوں کے بعد بھارت ایک بار پھر اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے پاکستان پر الزامات، سازشوں اور حملوں کا سہارا لے رہا ہے۔بھارت کی موجودہ ریاستی پالیسی بھی کچھ ایسی ہی عکاسی کرتی ہے، جہاں اپنی داخلی ناکامیوں، سفارتی شکستوں اور عالمی سطح پر شرمندگی سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی، جارحیت اور دہشت گردی کے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔چاہے وہ 1965 کی جنگ ہو یا 1971 ء کی، کارگل ہو یا پلوامہ ڈرامہ، بھارت ہمیشہ اپنی عوام کو گمراہ کرنے کے لیے پاکستان پر الزام دھرتا آیا ہے۔ مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ بھارت کی ناکامیاں خود اس کی بدترین خارجہ پالیسی، اقلیتوں پر ظلم، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور اندرونی بغاوتوں کا نتیجہ ہیں۔ جب ایک ملک اپنے ہی شہریوں کو انصاف دینے میں ناکام ہو جائے، وہاں سے ایسی حرکتوں کی توقع کی جاتی ہے جو ہم خضدار جیسے واقعات میں دیکھتے ہیں۔ بچوں کی بس پر بزدلانہ حملہ ہے جس نے نہ صرف انسانی دلوں کو چھلنی کر دیا بلکہ دشمن کی گھٹیا ذہنیت کو بھی بے نقاب کیا۔ ایسی سفاکیت صرف وہی کر سکتا ہے جس کے ضمیر مردہ ہو چکے ہوں اور جسے اپنی شکست خوردہ پالیسیوں کا کوئی اور مداوا دکھائی نہ دے۔ یہ حملہ صرف پاکستانی قوم پر نہیں بلکہ پوری انسانیت پر حملہ تھا۔ وہ ننھے معصوم جنہوں نے ابھی زندگی کی بہاریں دیکھنی تھیں، جن کے خواب ابھی پنکھ پھیلا ہی رہے تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس واقعے کے تانے بانے ایک بار پھر بھارت سے جا ملتے ہیں۔ را (RAW) کی موجودگی، پاکستان مخالف گروہوں کو اسلحہ و تربیت فراہم کرنااور سرحد پار سے تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرنا بھارتی ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔لیکن بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ چاہے کتنی بھی سازشیں کر لے، کتنی بھی بزدلانہ کارروائیاں کرے، وہ پاکستانی قوم کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتا۔ ہماری تاریخ شہدا کے لہو سے لکھی گئی ہے اور ہماری رگوں میں ایمان، اتحاد اور قربانی کا جذبہ دوڑتا ہے۔ خضدار میں جن بچوں کو نشانہ بنایا گیا ان کے خون سے ایک نئی بیداری نے جنم لیا ہے۔ اب ہر پاکستانی کا دل، ہاتھ اور زبان دشمن کے خلاف متحد ہو چکے ہیں۔ہماری قوم کا سب سے بڑا اثاثہ ہمارا دین، ہمارا ایمان اور اللہ پر ہمارا بھروسہ ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت اللہ کی مشیت کے آگے بے بس ہے۔ جس قوم کے جوان اذانوں کے ساتھ اٹھیں، سجدوں میں اپنی زمین کے تحفظ کی دعائیں مانگیں اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق کا علم بلند کریں، انہیں شکست دینا ممکن نہیں۔قرآن میں ارشاد ہے:’’کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ‘‘ (سورہ البقرہ)
یعنی کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئیں۔یہی یقین، یہی ایمان ہمیں ہر میدان میں فتح یاب کرتا ہے۔بھارت کی عالمی سطح پر رسوائی ہوئی۔آج دنیا بھارت کے دوہرے چہرے کو پہچان چکی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم، اقلیتوں پر حملے، کسان تحریک، میڈیا پر پابندیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر چکی ہیں۔ بھارت کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ خضدار جیسے حملے قوم کو تقسیم کر سکتے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس، ہر حملے کے بعد قوم پہلے سے زیادہ متحد، بیدار اور مضبوط ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر جب کوئی بزدل دشمن معصوم بچوں کو نشانہ بناتا ہے تو وہ صرف جسمانی نقصان نہیں کرتا بلکہ ہر ماں کے دل کو چیر دیتا ہے، ہر پاکستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے اور ہر فرد کے دل میں اپنے وطن سے وفاداری کے جذبے کو مزید جلا بخشتا ہے۔ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ایسے واقعات سے پاکستان کو کمزور کیا جا سکتا ہے، مگر وہ تاریخ بھول چکا ہے کہ یہ قوم جتنا دکھ سہتی ہے اتنی ہی طاقت کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہے۔ ہمارے لیے خضدار کے شہدا محض اعداد و شمار نہیں، وہ ہمارے ضمیر کا وہ حصہ ہیں جو کبھی مر نہیں سکتا۔حالیہ برسوں میں پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر کارروائیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت یہ نہ بھولے کہ اگر پاکستانی قوم نے جواب دینے کا فیصلہ کیاتو دہلی کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو جائے گا۔پاکستانی نوجوان آج پہلے سے زیادہ باشعور، تعلیم یافتہ اور وطن سے محبت کرنے والے ہیں۔ خضدار جیسے واقعات ان میں مزید جذبہ، بیداری اور جوش پیدا کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا، صحافت اور تعلیمی ادارے سب اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ دشمن کے پروپیگنڈے کا جواب علم، شعور اور تحقیق سے دے۔ ایک مضبوط بیانیہ ہی دشمن کے جھوٹ کا توڑ ہوتا ہے۔خضدار کے شہید بچوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہر پاکستانی کا دل ان کے لواحقین کے ساتھ دھڑکتا ہے، اور ان کی قربانی ہماری قومی حمیت کو مزید طاقت دیتی ہے۔ دشمن کو یہ پیغام ہے: ہم بیدار ہیں، متحد ہیں، اور ہر حملے کا جواب دیں گے، نہ صرف زبان سے بلکہ عمل سے بھی۔بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان صرف ایک ریاست نہیں، یہ ایک نظریہ ہے اور نظریات کو نہ گولیوں سے مارا جا سکتا ہے نہ سازشوں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔پاکستانی قوم کے حوصلے اور عزم کو کبھی کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں، مگر ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہمارا ایمان ہے، ہمارا اتحاد ہے اور اللہ تعالی کی مدد پر ہمارا یقین ہے۔ دشمن کے پاس صرف سازشیں ہیں، ہمارے پاس شہدا کا لہو، سچائی کی طاقت اور ایک ایسا جذبہ ہے جو نسل در نسل ہمارے دلوں میں موجزن ہے۔ ہماری رگوں میں ایمان دوڑتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کا ساتھ دیتا ہے۔ دشمن جتنی مرضی چالاکی کر لے وہ اللہ کی مشیت سے نہیں بچ سکتا۔پاکستان محض ایک ملک نہیں، ایک نظریہ ہے۔ ایک ایسی روشنی ہے جو ظلمتوں میں بھی چراغ بن کر جلتی ہے۔ اور جس قوم کے چراغ شہدا کے خون سے جلتے ہوں، اسے کوئی طوفان بجھا نہیں سکتا۔ خضدار کے معصوم بچوں کا خون ہمارے جذبوں میں نئی جان ڈال چکا ہے۔ ہم انہیں بھولیں گے نہیں، ہم ان کے خواب پورے کریں گے، ہم ان کی قربانی کو ایک عظیم فتح میں بدلیں گے۔پاکستان زندہ آباد۔شہدائے خضدار پائندہ آباد
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستانی قوم بھارت کی چاہیے کہ سکتا ہے جا سکتا دشمن کے ہے اور قوم کے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔