فلسفۂ قربانی اور عصرِ جدید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
مفہوم: ’’بے شک! ( اے حبیبؐ) ہم نے آپؐ کو خیر کثیر عطا فرمایا۔ پس اپنے رب کے لیے نماز ادا کیجیے اور قربانی دیجیے۔ بے شک! آپؐ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔‘‘
ذی الحج کا مہینہ آنے سے قبل ہی عید قرباں اور قربانی کا غلغلہ مچ جا تا ہے۔ لاکھوں خوش نصیب بارگاہ ایزدی میں فریضۂ حج کی ادائی کے لیے اطراف و اکناف عالم سے کشاں کشاں مکہ مکرمہ کھنچے چلے جاتے ہیں، تاہم کروڑوں مسلمان جو بہ وجوہ وہاں نہیں پہنچ پاتے، وہ اپنی ایمانی و روحانی تسکین کے حصول کے لیے سنّت مصطفوی ﷺ کی پیروی کر تے ہوئے اس عظیم واقعے کی یاد تازہ رکھتے اور انتہائی ذوق و شوق کے ساتھ ہر سال جانوروں کی قربانی کر تے ہیں، تاکہ سیدنا ابراہیم اور ان کے عظیم فرزند سیدنا اسمٰعیل علیہم السلام اور آپؑ کے خانوادے کی رضائے الٰہی کے لیے کی گئی عظیم قربانی کی یاد گار ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے۔
امام کائنات ﷺ کی بعثت مبارکہ سے قبل بھی یہ عمل ادا کیا جاتا رہا، بل کہ قرآن مجید کے مطابق ابتدائے انسانیت سے ہی یہ پاکیزہ جذبہ موجود ہے۔ البتہ اس جذبۂ قربانی کو اگر جِلا ملی تو محبوب رب العالمین ﷺ کے ورود مسعود اور امت مسلمہ کے برپا کیے جانے کے بعد ملی اور قیامت تک یہ سنت ابراہیمی اہل ایمان ادا کر تے رہیں گے۔
ہم اور ہمارے اسلاف صدیوں سے یہ عمل دہراتے آرہے ہیں تاہم آج جب کہ امت مسلمہ بے شمار مسائل کی گرداب میں پھنسی ہوئی ہے، ایسے ماحول میں شدید ضرورت ہے کہ ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں جائزہ لیں کہ آیا اس عظیم عمل کی ادائی محض رسمی عبادت ہے اور اس کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا اور گوشت کا حصول ہے یا اس عمل کے پس پردہ کار فرما رب تعالیٰ کو مطلوب مقاصد و حکمتیں ہیں۔
ذرا مشاہدہ کیجیے اور قرآن مجید و احادیث مبارکہ جن پر ہم نے جزدان سجا کر گرد و غبار کی موٹی تہیں جما رکھی ہیں، وہ کیا کہتی ہیں اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ اﷲ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب ﷺ اور ان کی امت کو جو مقام شرف و عظمت عطا فرما یا ہے اس کے تقاضوں کے تحت شکر ربانی کے طور پر نماز اور قربانی کا حکم دیا گیا ہے، اﷲ تعالیٰ نے امام کائنات ﷺ کو جن بلندیوں و رفعتوں سے سر فراز فرمایا، انہیں امام الانبیاء، شفیع المذنبین اور رحمۃ اللعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے مناصب جلیلہ عطا فرمائے بل کہ ’’ وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَکَ‘‘ کہہ کر شان مصطفی ﷺ پر مہر تصدیق ثبت فرما دی کہ جب جب اور جہاں جہاں رب کی کبریائی ہے، وہاں وہاں میرے مصطفی ﷺ کی مصطفائی ہے۔
سبحان اﷲ! یہ مقام عظمت و بزرگی کسی پیغمبر کو حاصل نہ ہوسکا جب خالق کائنات نے اپنی نعمتوں کو اپنے محبوب پر اکمال و اتمام فرمایا تو شرط بھی عاید کردی کہ دنیا و آخرت میں ہم نے آپ ﷺ اور آپؐ کی امت کو سب سے بلندی عطا فرمائی تو شکر نعمت کا تقاضا ہے کہ اب آپ ﷺ اور آپؐ کی امت بھی اپنے رب کا حق ادا کریں اور اس کے لیے دو عمل بیان فرما دیے کہ ایک تو نماز قائم کریں اور دوسرے قربانی دیں۔
ہمارے معاشرے میں فریضۂ نماز کی ادائی کا جو حال ہے وہ سب پر عیاں ہے البتہ قربانی کے فریضے کا جائزہ لیں تو عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ ہزاروں افراد مرد، خواتین یہاں تک کہ معصوم بچے اور بچیاں تک جانور کی تلاش میں دن بھر بل کہ رات رات بھر منڈیوں میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں اور نمازیں ضایع کر تے ہوئے ایک ایسے عمل میں منہمک رہتے ہیں جو یقیناً انتہائی محبوب و مستحسن ہے تاہم ایک ایسے فرض سے بے پرواہی جو کفر اسلام کا خط امتیاز ہے واجب یا مسنون عمل کی ادائی ہرگز اس کے مقابل نہیں ہو سکتا۔
قربانی نام ہے اپنی جان و مال سمیت فکر و نظریات، خواہشات، ضروریات، پسند ناپسند، خوشی غمی، حتیٰ کہ اہل و عیال اور عزیز ترین شے کو اپنے رب کی مرضیات کے مطابق ڈھال لینا اور ہر طرح کے ایثار کے لیے ذہنی، فکری، مالی، جسمانی رحجانات و میلانات کو سیرت مصطفی ﷺ کے مطابق ڈھال لینا۔ آئیے! بہ نظر عمیق خود احتسابی کی چھلنی سے اپنے آپ کو گزاریں۔ یقین جانیے صحیح تصویر سامنے آجائے گی کہ آیا ہم زبانی کلامی یا بعض نمائشی اقدامات کے ذریعے بہ زعم خود کسی پندار میں الجھے ہوئے ہیں یا واقعی ہم قربانی کی روح اور فلسفے سے آشنا ہوکر اپنے رب کے محبوب بندوں میں شمار ہو تے ہیں۔ اصولی بات ہے کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
عید الاضحیٰ اور قربانی کا سبق اہل ایمان کے لیے تو یہ ہے کہ ہر طرح کی عبادت و ریاضت کا مقصود و مطلوب خالق کائنات کی خالص بندگی اور رضا مندی حاصل ہوجائے۔ یقیناً قربانی بھی انھی اعمال میں سے ایک ہے، اگر یہ عمل خالصتاً اﷲ کے لیے ہے اور اس میں کسی قسم کی ریا کاری دکھا وا یا آج کل جیسا کہ رجحان بن چکا ہے، خاندان، برادری، محلے یا معاشرے میں مسابقت اور نمود و نمائش ہے تو پھر جان لیجیے کہ رب تعالیٰ کو ایسی قربانیوں کی ضرورت نہیں۔
ارشاد الٰہی کا مفہوم ہے: ’’اﷲ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے اور نہ ہی ان کے خون، بل کہ اسے (یعنی اﷲ تعالیٰ کو) تو تمہارے دلوں کی پرہیزگاری (یعنی تقویٰ) پہنچتا ہے۔ اسی طرح اﷲ نے ان جانوروں کو تمہارا مطیع کردیا ہے کہ تم اس کو (یعنی اﷲ تعالیٰ کی عطا کر دہ) ہدایت کے شکریے میں اس کی کبریائی بیان کر و اور (اے میرے حبیب ﷺ) نیک لوگوں کو (جنت و رضائے الٰہی) کی خوش خبری سنا دیجیے۔‘‘ (سورۃ الحج)
اب پتا چلا کہ ہمارا رب ہم سے کیا چاہتا ہے۔ آج امت مسلمہ کی زبوں حالی، بالخصوص ہماری قومی، معاشی، اقتصادی، دفاعی، تعلیمی پس ماندگی اس بات کی متقاضی ہے کہ ہر فرد اپنی صلاحیتوں کے مطابق جذبۂ قربانی کو بیدار کر ے اگر آپ کے مالی وسائل نہیں اور قرض کی ادائی بھی ممکن نہیں تو آپ قربانی کے مکلف نہیں ہیں، البتہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو دیگر نعمتوں آپ مثلاً علم و ہنر، معاملہ فہمی، شعور و ادراک یا جسمانی، ذہنی اور فکری صلاحیتوں سے سر فراز فرمایا ہے تو اب آپ کی قربانی و ایثار یہ ہے کہ دین متین اور امت مسلمہ کی سربلندی و ترقی کے لیے اپنی صلاحیتوں سے ایثار و قربانی کے جذبے کے تحت جو نمایاں خدمات سر انجام دے سکتے ہوں، تو ضرور دیجیے۔
یہی قربانی کا فلسفہ ہے کہ جہاں ایک طرف اہل اسلام اپنے اندر انقلابی تبدیلیاں لاتے ہوئے منکرات سے بچ کر معروفات پر کماحقہ عمل پیرا ہوں، وہیں سنت ابراہیمی کی روشنی میں نفس امارہ کے منہ زور گھوڑے کو اﷲ و رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی، خود غرضی، بے حسی، کفار کی نقالی، تہذیبی اقدار کی پامالی، معاشرتی بے اعتدالی، ملی و ملکی عزت و حرمت کے منافی امور سے اجتناب، جھوٹ، ملاوٹ، خیانت، بددیانتی، نسلی، لسانی، علاقائی تفاخر کے بہ جائے اسلام کو وجۂ افتخار بنانے اور ظلم، زیادتی، کرپشن، رشوت لوٹ کھسوٹ اور تمام تر انفرادی و اجتماعی گناہوں سے استغفار و اصلاح نفس کے ساتھ پوری امت کی اصلاح و خیر خواہی کے جذبے کو بیدار کیا جائے اور اس کے عملی اظہار کی خاطر مضبوط جماعتی زندگی کی استواری ہو تو یقیناً ہم قربانی کے فلسفے کو سمجھ پائیں اور دنیا و آخرت کی کام رانیوں سے ہم کنار ہوسکتے ہیں۔
آئیے! اس موقع پر ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں انقلاب لانے کے لیے کتاب و سنّت سے راہ نمائی حاصل کریں اور قربانی کا درس دیں۔ ارشاد باری تعالی کا مفہوم: (اے میرے حبیب ﷺ) ’’آپ فرما دیجیے کہ بے شک! میری نماز میری قربانی (ساری عبادتیں) اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خالصتاً اﷲ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں (نہ ذات میں نہ صفات میں) اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ماننے والوں میں سے ہوں۔‘‘ (سورۃ الانعام)
اﷲ تعالیٰ اپنے پیارے پیغمبر ﷺ کی زبانی فلسفۂ قربانی بل کہ تمام تر عبادات نماز، روزہ، حج، قربانی، زکوٰۃ و صدقات وغیرہ کی غرض و غایت اور روح یہ ہے کہ ہر عمل خالص رضائے الٰہی کے حصول اور تطہیر نفس کے ساتھ اعتقادی، انفرادی و اجتماعی زندگی میں انقلاب برپا ہو اور مسلم معاشرہ باہمی رواداری، خیر خواہی اور انسانی ہم دردی پر مبنی ہو، جس میں ہر خاص و عام کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں۔ ایسا مثالی معاشرہ ضبط نفس اور ایثار و قربانی کے بغیر ممکن نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور قربانی کا قربانی کے اﷲ تعالی کے مطابق کی ادائی اپنے رب کے لیے اور اس تے ہیں اور ان
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔