WE News:
2026-06-03@02:06:41 GMT

نیم کے سائے، تلسی کی خوشبو

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

نیم کے سائے، تلسی کی خوشبو

تلسی، نیم، کلونجی اور سونف یہ پودے صرف دوا نہیں، دیہی خواتین کا صدیوں پرانا علم اور قدرت سے جُڑے رہنے کا طریقہ ہیں۔
کبھی دیہی علاقوں کے آنگنوں میں تلسی کی خوشبو ہوا میں بسی ہوتی تھی، نیم کی ٹھنڈی چھاؤں راحت دیتی تھی، اور ہر عورت کے ذہن میں ایک چھوٹا سا حکیم بسا ہوتا تھا۔

 جنوبی پنجاب کی عورتیں نہ صرف گھریلو زندگی کی ماہر تھیں بلکہ جڑی بوٹیوں کے استعمال سے اپنے اہلِ خانہ کی شفا کا ذریعہ بھی۔ آج وہ دانش، وہ رسمیں، اور وہ قدرتی علم آہستہ آہستہ وقت کی گرد میں دب رہا ہے۔
میانوالی کے قصبہ ’کمر مشانی‘ کی 70 سالہ بزرگ رہائشی گل خاتون بتاتی ہیں، ’بخار ہو تو نیم کے پتوں سے نہلاتے تھے، تلسی اور دارچینی کا قہوہ پلاتے تھے۔ پیٹ خراب ہو تو سونف اور زیرہ کام آتا تھا۔ زچگی کے بعد السی، میتھی اور اجوائن کی مالش کی جاتی تھی، اور دردِ زہ میں کلونجی کا پانی دیا جاتا تھا‘۔
یہ علم کسی کتاب میں نہیں لکھا گیا تھا بلکہ یہ عورت سے عورت یعنی سینہ در سینہ منتقل ہونے والی زبانی دانش تھی۔
دیہی گھروں میں اگائے جانے والے پودے صرف سبزہ نہیں تھے، بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ کچھ اہم پودے جو ہر عورت پہچانتی تھی، مثلا

تلسی، جو نزلہ، کھانسی، بخار، اور ذہنی سکون کے لیے مفید سمجھی جاتی تھی۔

نیم، جو جلدی امراض، دانتوں کی صفائی، اور جراثیم کش خصوصیات کا حامل تھا۔

اجوائن، جو پیٹ کے درد، بدہضمی، اور گیس میں مؤثر تھی۔

کلونجی، جسے قوتِ مدافعت بڑھانے، دردِ زہ اور بخار میں استعمال کیا جاتا تھا۔

سونف، جو معدے کی بہتری، ہاضمے اور نظر کی تیزی کے لیے فائدہ مند تھی۔

 دارچینی، جو خون کی روانی بہتر بنانے، نزلے اور ذیابطیس میں کام آتی تھی۔

 السی، جو جوڑوں کے درد اور زچگی کے بعد کی کمزوری میں کارآمد تھی۔

میتھی، جو بالوں کی صحت اور دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

 اس کے علاوہ کچنار، دھماسہ، ست گلو، کریلا اور چرائیتہ جیسے پودے بھی موسمی یا دائمی بیماریوں کے علاج میں شامل تھے۔ یہ صرف پودے نہیں تھے، بلکہ زندگی کے وہ اسباق تھے جو نسل در نسل منتقل ہوتے رہے۔

 تلسی کا پانی صبح پلانا، نیم کے پتے بستر کے نیچے رکھنا یا کلونجی تکیے کے نیچے رکھ کر دعا پڑھنا، ان سب میں شفا کے ساتھ ساتھ روحانی پہلو بھی شامل ہوتا تھا۔ ہر پودے کی اپنی ایک کہانی اور ایک مقصد تھا۔
دورِ حاضر کی زندگی میں ان جڑی بوٹیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، اور کئی مرتبہ ان کی اہمیت کو ہم جدید طریقہ علاج کے مقابلے میں کم سمجھتے ہیں۔

تاہم، حالیہ برسوں میں ایک نئی لہر اٹھی ہے، جہاں دیہی خواتین اور نوجوان لڑکیاں اپنے اجداد کے طریقوں کو دوبارہ اپنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز نے دیہی خواتین کو یہ سکھایا کہ وہ کس طرح قدرتی علاج کے طریقوں کو دوبارہ استعمال میں لائیں۔

دیہی علاقوں میں ایک نیا رجحان پیدا ہو رہا ہے، جس میں خواتین اپنے آنگن میں تلسی اور نیم کے پودے لگانے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کے دیگر حصوں میں بھی قدرتی جڑی بوٹیوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔

 چھوٹے سے چھوٹے گھریلو مسائل جیسے کھانسی، بخار یا ہاضمہ کی خرابی کا علاج بھی قدرتی طریقوں سے کرنے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں۔

 یہی نہیں، دیہی علاقوں میں خواتین اپنے بزرگوں سے سیکھ کر ان طریقوں کو نئی نسل تک پہنچا رہی ہیں، تاکہ یہ قدرتی علم اور جڑت نسلوں تک منتقل ہو۔
جڑی بوٹیوں کی کہانیاں ثقافت کا حصہ بھی تھیں، یہ بہت سے غمی خوشی اور مختلف تہواروں میں بھی شامل حال رہتی تھیں۔  قدیم آزمودہ نسخے تہذیبی ورثے، محبت اور روحانیت کی عکاسی کرتے ہیں جو ہمارے اندر موجود ہے۔
قدرت سے جُڑنے کا ایک راستہ ہماری جڑی بوٹیوں کی دانش میں چھپا ہے۔ یہ خواتین کا محفوظ، آزمودہ ورثہ ہے۔ دورِ حاضر میں جب کوئی عورت دوبارہ تلسی اُگاتی ہے، نیم کی پتی چباتی ہے، یا کلونجی کا تیل بناتی ہے، تو وہ صرف جسم کو نہیں بلکہ اپنی ثقافت کو بھی شفا اورجِلا بخشتی ہے۔
قدرت کے پودے صرف جڑی بوٹیاں نہیں، بلکہ ہماری ثقافت، ہماری تاریخ اور ہماری شناخت ہیں۔ یہ وہ علم ہے جو صدیوں سے ہمارے بزرگوں نے ہمیں دیا، اوریہ وہ علم ہے جو ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔
یہ پودے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ قدرتی وسائل کا استعمال صرف بیماریوں کا علاج نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے تعلقات، ہماری روایات اور ہماری روحانیت کا حصہ بھی ہیں۔

ہم جب دوبارہ تلسی کے پودے اُگاتے ہیں، نیم کے درختوں کا خیال رکھتے ہیں، یا کلونجی کی تیز خوشبو سے اپنے ماحول کو خوشبو کرتے ہیں، تو ہم دراصل قدرتی دنیا کے ساتھ اپنے تعلق کو دوبارہ مستحکم کرتے ہیں۔

 یہ صرف قدرتی علاج نہیں، بلکہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ ہم قدرت سے جڑے رہ کر ہی اپنے جسم، دماغ اور دل کو سکون اور صحت دے سکتے ہیں۔
قدرت کا ہر پودا ایک کہانی سناتا ہے، ایک یاد دلاتا ہے، اور ایک نئے سفر کا آغاز کرتا ہے جو ہمیں اپنی روایات اور شناخت کی طرف لے جاتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مہ پارا ذوالقدر

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جڑی بوٹیوں کے ساتھ نیم کے کے لیے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق