کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں نوعمر لڑکی سمیت دو افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
کراچی کے مختلف علاقوں میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوعمر لڑکی سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق سرجانی کے علاقے تیسر ٹاؤن سیکٹر 50 اے دربار ہوٹل کے قریب گلی میں فائرنگ سے نوعمر لڑکی زخمی ہوگئی جسے چھیپا کے رضا کاروں نے فوری طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال پہنچایا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ مضروبہ کی شناخت 12 سالہ بسمہ کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ گھر کے باہر لوٹ مار کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہونے کا بتایا جا رہا ہے جبکہ سرجانی ٹاؤن پولیس کا کہنا ہے مضروبہ کا والد بلال گھر کے باہر بیٹھا تھا کہ اس دوران ایک شخص کو دیکھ کر وہ گھر کی جانب بھگا تو ملزم نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں گھر کے گیٹ پر کھڑی بسمہ ران پر گولی لگنے سے زخمی ہوگئی جبکہ کوئی چھینا جھپٹی کی واردات نہیں ہوئی۔
تاہم، پولیس اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
دریں اثنا سائٹ سپر ہائی وے صنعتی ایریا کے علاقے جمالی گوٹھ گلی نمبر 7 میں فائرنگ سے سے 32 سالہ سلمان زخمی ہوگیا جسے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال لیجایا گیا۔
چھیپا حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر پیش آیا ہے جبکہ مضروب کو کمر پر گولی لگی ہے جبکہ پولیس واقعہ کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔