بی جے پی کی حکومت میں فوج، شہداء اور انکے خاندانوں کی توہین کی جارہی ہے، الکا لامبا
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
کانگریس کی خاتون لیڈر نے کہا کہ بی جے پی کی اعلٰی قیادت نے پارٹی کے لیڈروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آپریشن سندور کا سارا کریڈٹ نریندر مودی کو دیں، جسکے تحت فوجی اہلکاروں کی قربانیوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مہلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے نئی دہلی میں واقع آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام عائد کیا کہ وہ "آپریشن سندور" کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کر رہی ہے اور اس عمل میں فوج، شہداء اور ان کے خاندانوں کی توہین کر رہی ہے۔ الکا لامبا نے کہا کہ بی جے پی کی اعلٰی قیادت نے پارٹی کے لیڈروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آپریشن سندور کا سارا کریڈٹ نریندر مودی کو دیں۔ انہوں نے اس عمل کو ایک منظم پی آر مہم قرار دیا جس کے تحت فوجی اہلکاروں کی قربانیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
الکا لامبا نے ہریانہ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رام چندر جانگڑا کی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے ایک شہید کی بیوہ کو بزدل قرار دیا۔ الکا لامبا نے اس بیان کو نہ صرف توہین آمیز بلکہ شہید کے خاندان کے لئے جذباتی طور پر نقصان دہ قرار دیا۔ الکا لامبا نے مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ انہوں نے اس بیان کو خواتین افسران کی بے حرمتی قرار دیا۔ مدھیہ پردیش کے نائب وزیراعلٰی جگدیش دیوڑا کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج نریندر مودی کے سامنے سر بہ سجود ہے، جو کہ فوج کی خودمختاری کی توہین ہے۔
الکا لامبا نے کہا کہ مدھیہ پردیش کی پولیس نے وجے شاہ کے بیان پر کوئی کارروائی نہیں کی لیکن ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر کے احکامات دئے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے جو اس ماہ کے آخر تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی کے وہ لیڈر جنہوں نے توہین آمیز بیانات دیے ہیں، انہیں پارٹی سے برطرف کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ الکا لامبا نے نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس بلائیں اور اس کی صدارت کریں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا خصوصی اجلاس بلا کر آپریشن سندور پر مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ الکا لامبا نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت میں فوج، شہداء اور ان کے خاندانوں کی توہین کی جا رہی ہے۔ کانگریس کمیٹی کی خاتون لیڈر نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی کے لیڈر معافی مانگیں، توہین آمیز بیانات دینے والوں کو پارٹی سے نکالا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور عوام کے جذبات کا احترام کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ الکا لامبا نے کہ بی جے پی بی جے پی کی اور ان کے کی توہین قرار دیا کیا کہ
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔