گھارو پمپنگ اسٹیشن پر بجلی بحال، کراچی کو 30 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی شروع
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
گھارو پمپنگ اسٹیشن— فائل فوٹو
گھارو پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ پر بجلی بحال ہو گئی، جس کے بعد کراچی کو 30 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی کا سلسلہ بحال کر دیا گیا۔
ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق کیبل فالٹ کا کام 8 بج کر 20 منٹ پر مکمل ہوا ہے۔
واٹر کارپوریشن کا کہنا ہے کہ گھارو پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ پر کیبل فالٹ کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے پمپنگ بند ہو گئی تھی، کیبل فالٹ صبح 10 بج کر 35 منٹ پر ہوا تھا، کے الیکٹرک کے فالٹ کے باعث گھارو پمپنگ اسٹیشن مکمل طور پر بند ہو گیا تھا۔
کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا سے حسن اسکوائر کی جانب جانے والے پل کے قریب سیوریج کا پانی سڑک پر آگیا ہے۔
ترجمان واٹر کارپوریشن کا کہنا ہے کہ گھارو پمپنگ اسٹیشن سے شہر کو یومیہ 30 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق اس تعطل سے پورٹ قاسم، بن قاسم ٹاؤن، شاہ فیصل ٹاؤن، پی این ایس مہران, پی اے ایف بیس فیصل اور کارساز کے علاقے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔
دوسری جانب ترجمان کے الیکٹرک نے بتایا تھا کہ گھارو پمپنگ اسٹیشن پر علاقائی فالٹ کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گھارو پمپنگ اسٹیشن کی فراہمی
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔