بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا 24 کروڑ لوگوں کی بقا کیلئے خطرہ ہے، پاکستان کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا 24 کروڑ لوگوں کی بقا کیلئے خطرہ ہے، پاکستان کا انتباہ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 May, 2025 سب نیوز
اسلا م آباد(آئی پی ایس) پاکستان نے اقوام متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس آبی معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ خطرناک اقدام، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، اور 24 کروڑ سے زائد افراد کی بقا کے لیے خطرہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ میں مسلح تنازعات میں پانی کے تحفظ سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ایسے اقدامات کے رونما ہونے سے پہلے ہی متحرک ہو جائے، جو انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں یا خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے سلووینیا کی جانب سے بلائے گئے آریا فارمولا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون، بشمول انسانی حقوق کے قانون، معاہداتی قانون اور عرفی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے غیر قانونی اعلان کی شدید مذمت کرتے ہیں، بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے قانونی فرائض کی مکمل پاسداری کرے، اور پاکستان کے لیے زندگی کی علامت ان دریاؤں کا بہاؤ روکنے، موڑنے یا محدود کرنے سے باز رہے، ہم ایسے کسی بھی اقدام کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
عثمان جدون نے بھارتی قیادت کے خطرناک بیانات کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ ’پاکستان کے عوام کو بھوکا مارنے‘ جیسے اعلانات بھارتی قیادت کی انتہا درجے کی خطرناک اور بگڑی ہوئی سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے اس فورم کو استعمال کرتے ہوئے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف عالمی اتفاق رائے کی اپیل کی۔
سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ان معاملات پر قریب سے نظر رکھے اور جہاں ضروری ہو، بروقت اقدامات کرے۔
سلامتی کونسل کو ایسے حالات کی نشاندہی کرنی چاہیے، جہاں بین الاقوامی قانون، بشمول عالمی انسانی قانون (آئی ایچ ایل) کی خلاف ورزیاں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہوں، یا انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہوں۔
پاکستان کے بیان میں 3 اہم نکات کو اجاگر کیا گیا ہے، جن میں قانونی پابندیاں، جنگ میں شامل فریقوں کی ذمہ داریاں، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت شامل ہیں۔
بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق بشمول بین الاقوامی انسانی قانون، پانی کے وسائل اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی ممانعت کرتا ہے۔
پانی تک رسائی سے انکار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
تنازع میں شامل تمام فریق عالمی انسانی حقوق کے پابند ہیں اور انہیں ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے، جن کے نتیجے میں انسانی بحران پیدا ہو۔
مزید برآں، پانی کو دباؤ ڈالنے یا جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول اور غیر مستحکم کن اقدام ہے۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک ملک، جو بدنیتی پر مبنی عزائم رکھتا ہے، اس نے پانی کو ہتھیار بنانے کے ساتھ ساتھ اسے سودے بازی کا ذریعہ بھی بنا لیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں بھارت کی جانب سے معاہداتی نظام کو بائی پاس کرنے اور عالمی ثالثوں، بالخصوص عالمی بینک کے کردار کو غیر مؤثر بنانے کی کوششوں پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے، عالمی بینک 1960 میں انڈس واٹر ٹریٹی کا ضامن رہا ہے۔
پاکستانی حکام ان بھارتی اقدامات کو ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتے ہیں، جس کا مقصد تعاون پر مبنی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور غیر عسکری ذرائع سے اسلام آباد پر دباؤ ڈالنا ہے۔
نائب مستقل مندوب عثماان جدون نے عالمی سطح پر تنازعات کے دوران پانی کے وسائل کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ پانی کو سیاسی یا عسکری ہتھیار بنانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف واضح، اصولی اور متحد موقف اپنانا ہوگا۔
دہشت گردی کا الزام مسترد
ایک الگ اجلاس میں، دہلی اور اسلام آباد کے نمائندوں کے درمیان اقوام متحدہ میں شدید زبانی جھڑپ ہوئی، جب پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے حالیہ جھڑپ کے دوران بھارتی فوج پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔
یہ تبادلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں }مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ{ پر ہونے والی بحث کے دوران پیش آیا۔
بھارتی سفیر پروتنینی ہریش نے پاکستانی ہم منصب کے سخت بیان کا جواب دیا، اور روایتی الزامات دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کی پالیسی اپنانے کے بعد شہریوں کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔
پاکستانی مندوب صائمہ سلیم نے بھارتی سفیر پر ’گمراہ کن معلومات، موضوع سے ہٹنے اور انکار‘ کا سہارا لینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بھارت خود دہشت گردی میں ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی چیز حقائق کو چھپا نہیں سکتی، بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بے گناہ شہریوں کو کھلے عام قتل اور زخمی کرتا ہے، پاکستان پر کھلی جارحیت کر کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی اور قتل کی کارروائیوں کی سرپرستی کرتا ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت دریاؤں کا بہاؤ روکنے جیسے انتہائی اقدام پر بھی اتر آیا ہے، یہ دریا پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عالمی برادری نے پہلگام واقعے کی مذمت کی تھی، اگر بھارت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں، تو اسے واقعے کی قابل اعتبار، غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات پر آمادگی ظاہر کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس بھارت کشمیری عوام کی جائز آزادی کی جدوجہد کو دبانے کے لیے ریاستی دہشت گردی کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔
کھلی جارحیت
صائمہ سلیم نے یاد دلایا کہ رواں ماہ کے اوائل میں بھارت نے پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کی، بے گناہ شہریوں پر بلااشتعال حملے کیے، جن میں 40 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 7 خواتین اور 15 بچے شامل تھے، جب کہ 121 افراد زخمی ہوئے، جن میں 10 خواتین اور 27 بچے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو دوسروں کو شہریوں کے تحفظ پر لیکچر دینے کا کوئی حق نہیں۔
صائمہ سلیم نے زور دیا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششیں اور قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، اور اسلام آباد اس لعنت کے خلاف اپنی وابستگی پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس بھارت فعال طور پر دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت اور حمایت کر رہا ہے، جن میں ’فتنہ الخوارج‘ (جو کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ پر مشتمل ہے) شامل ہیں، جو پاکستان میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
انہوں نے عالمی مندوبین کی توجہ حالیہ خضدار میں اسکول بس پر وحشیانہ حملے کی طرف مبذول کروائی، جس میں معصوم اسکول جانے والے بچے جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارت واقعی امن، سلامتی اور بہتر ہمسائیگی تعلقات کا خواہاں ہے، تو اسے ریاستی دہشت گردی ختم کرنی چاہیے، کشمیریوں پر ظلم بند کرنا چاہیے، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے بامقصد بات چیت کرنی چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم شہباز شریف آج سے مختلف ممالک کے دورے پر روانہ ہوں گے وزیراعظم شہباز شریف آج سے مختلف ممالک کے دورے پر روانہ ہوں گے الیکشن کمیشن نے ٹی ایل پی کے انٹرا پارٹی الیکشن تسلیم کرلیے آرمی چیف کا سیاسی قیادت کے اعزاز میں عشائیہ،نوجوانوں کو فولادی دیوار قرار دیا شاہ محمود قریشی کو جیل ٹرائل کیلئے پی آئی سی سے واپس جیل منتقل کردیا گیا اسلام آباد؛ریکارڈ 35 دن میں مکمل ہونیوالا جناح اسکوائر مری روڈ انٹرچینج ٹریفک کیلیے کھل گیا وزیراعظم کل ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے دورے پر روانہ ہونگےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز