چین میں تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، اور ہنر مند افراد کا ’’سنہرا مثلث‘‘
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
بیجنگ :چین میں تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، اور ہنر مند افراد کی “تھری ان ون” حکمت عملی ملک کی جدید کاری کے عمل میں نمایاں اہمیت کی حامل ہے۔اس حکمت عملی کی روشنی میں تعلیم کے ذریعے ہنر مند افراد کی تشکیل ، ہنر مند افراد کے ذریعے ٹیکنالوجی کا فروغ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے دوبارہ تعلیم میں مدد کا ایک مثبت سائیکل وجود میں آتا ہے۔ چینی طرز جدیدیت کے بنیادی معاون نظام کے طور پر، تعلیم سائنس و ٹیکنالوجی ہنر مند افراد کی “تھری ان ون” حکمت عملی کا نفاذ بین الاقوامی مسابقت سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ قومی احیاء کا ناگزیر انتخاب بھی ہے۔ تعلیم ایک بنیاد کی طرح ہے، جو ملک کی ترقی کی بنیاد کو مستحکم کرتی ہے۔ چین نے دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نظام قائم کیا ہے۔ ایک جانب، چین تعلیمی وسائل کی تقسیم کو بہتر بنا رہا ہے، عوامی سطح پر علم اور مہارت کو عام کررہا ہے، اور بتدریج شہری اور دیہی، علاقائی، تعلیمی اداروں اور گروہوں کے درمیان خلیج کم کررہا ہے؛ دوسری جانب، کلیدی شعبوں میں ہنر مند افراد کو تیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جہاں ہنر مند افراد کی شدید کمی ہے۔ آج، چین میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی کے شعبے کے فارغ التحصیل افراد کی تعداد عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے، اور ٹیکنالوجی میں انسانی وسائل کی مجموعی تعداد 11.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سائنس و ٹیکنالوجی اور ہنر مند افراد ہنر مند افراد کی کرتی ہے چین میں رہا ہے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک