سینیٹ کمیٹی میں نوک جھونک، ایمل ولی نے پشتون روایات کے تحت چیئرمین پی ٹی اے کا جرگہ قبول کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے پشتون روایات کے مطابق گزشتہ دنوں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی میں ہونے والی نوک جھونک پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کا جرگہ قبول کرلیا۔
چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان باچا خان مرکز پہنچے جہاں ایمل ولی نے مہمانوں کا استقبال کیا۔
ایمل ولی نے پشتون روایات کے مطابق چیئرمین پی ٹی اے کا جرگہ قبول کر لیا۔ چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ جو واقعہ پیش آیا، وہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا، اُس روز بھی معذرت کی تھی اور آج بھی گلہ دور کرنے آیا ہوں۔
ان کا کہنا تھاکہ ایمل ولی اور اُن کے خاندان کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
اس موقع پر ایمل ولی کا کہنا تھاکہ باچا خان مرکز تمام مظلوموں اور پشتونوں کا گھر ہے یہاں جرگے ہوتے ہیں اور پشتون روایات کا پاس رکھتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کے جرگے کو قبول کرتا ہوں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی اجلاس میں سینیٹر ایمل ولی خان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
چیئرمین پی ٹی اے نے سینیٹر ایمل ولی خان پرچرس کا سگریٹ پینے کا الزام لگاتے ہوئئ کہا تھا کہ مجھے بھی چرس کا سگریٹ دیں۔ اس پر ایمل ولی کا کہنا تھاکہ آپ کو تکلیف کیا ہے ؟ ایک سرکاری ملازم مجھے کیسے کہہ سکتا ہے کہ آپ چرس پی کر آئے ہو؟ ایک سرکاری افسرکایہ انداز بالکل قابل قبول نہیں، آپ کو یہ جرات کس نے دی ہے کہ ایسے بات کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیئرمین پی ٹی اے ایمل ولی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔