20گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ پر شہریوں کا پارہ ہائی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
کورنگی میں سڑک بلاک کر دیے،شاہراہوں پر گھنٹوں ٹریفک جام
شدید گرم موسم میں کراچی میں بجلی کا بحران بڑھنے لگا ہے، 18 سے 20 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ پر کورنگی کے مکینوں نے سنگر چورنگی کے قریب شدید احتجاج کیا۔لوڈ شیڈنگ پر پارہ ہائی ہونے پر شہریوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دیے، مظاہرین کہتے ہیں باقاعدگی سے بل جمع کرانے والے صارفین کو بجلی چوروں کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ احتجاج کی وجہ سے کورنگی سنگر چورنگی اطراف کی شاہراہوں پر گھنٹوں ٹریفک جام رہا۔ادھر کراچی میں ملیر اور شاہ فیصل کالونی میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے، خواتین بھی شریک ہیں، دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماں کا کہنا تھا کہ شہر میں بجلی ہے نہ پانی اور حکومت ان مسائل سے لاتعلق کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: لوڈ شیڈنگ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔