20گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ پر شہریوں کا پارہ ہائی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
کورنگی میں سڑک بلاک کر دیے،شاہراہوں پر گھنٹوں ٹریفک جام
شدید گرم موسم میں کراچی میں بجلی کا بحران بڑھنے لگا ہے، 18 سے 20 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ پر کورنگی کے مکینوں نے سنگر چورنگی کے قریب شدید احتجاج کیا۔لوڈ شیڈنگ پر پارہ ہائی ہونے پر شہریوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دیے، مظاہرین کہتے ہیں باقاعدگی سے بل جمع کرانے والے صارفین کو بجلی چوروں کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ احتجاج کی وجہ سے کورنگی سنگر چورنگی اطراف کی شاہراہوں پر گھنٹوں ٹریفک جام رہا۔ادھر کراچی میں ملیر اور شاہ فیصل کالونی میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے، خواتین بھی شریک ہیں، دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماں کا کہنا تھا کہ شہر میں بجلی ہے نہ پانی اور حکومت ان مسائل سے لاتعلق کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: لوڈ شیڈنگ
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔