کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 27 مئی ۔2025 )رواں مالی سال میں پاکستان کے لیے 38 ارب ڈالر کی متوقع ترسیلات زر کی آمد کے باوجود پاکستان کی فی تارکین وطن ترسیلات خطے کے ہم مرتبہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے رپورٹ کے مطابق پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2013 سے 2023 کے درمیان ترسیلات زر میں سالانہ اوسط 6.

1 فیصد کی کمپاﺅنڈ شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا مگر فی فرد ترسیلات کا حجم اب بھی دیگر ممالک سے کم ہے.

(جاری ہے)

سال 2023 میں پاکستان کی فی تارکین وطن ترسیلات زر 2 ہزار 529 ڈالر رہیں، جو کہ فلپائن (16 ہزار 780 ڈالر)، تھائی لینڈ (9 ہزار 709 ڈالر)، میکسیکو (5 ہزار 914 ڈالر)، چین (4 ہزار 626 ڈالر) اور بھارت (3 ہزار 906 ڈالر) کے مقابلے میں خاصی کم ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی شدید اتار چڑھاﺅ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بڑی وجوہات میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں عدم استحکام، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور ملکی معیشت کے اندرونی ساختی مسائل شامل ہیں.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2016 میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب 5 کروڑ ڈالر تھے جو کم ہو کر 2023 میں 11 ارب 3 کروڑ ڈالر تک آگئے جو بمشکل تین ہفتوں کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی تھے پی آر اے سی نے اس اتار چڑھاﺅ کو ساختی چیلنجز سے منسلک کیا جن میں ٹیکسٹائل سیکٹر پر حد سے زیادہ انحصار، محدود برآمدی تنوع، بڑھتی ہوئی درآمدات، روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور معمولی ترسیلات زر شامل ہیں.

رپورٹ میں روشن ڈیجیٹل اکاﺅنٹس (آر ڈی اے) اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس جیسے حالیہ اقدامات کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اگرچہ ان اقدامات نے ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو جزوی طور پر بڑھایا ہے مگر ان کے فوائد زیادہ تر رئیل اسٹیٹ جیسے غیر پیداواری شعبوں تک محدود رہے ہیں جس سے صنعتی یا زرعی پیداوار میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا.

پی آر اے سی نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہدفی اصلاحات تجویز کی ہیں جن میں نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر پیداوار کو گھریلو مالیاتی پالیسی سے ہم آہنگ کرنا، ترسیلات زر کی منتقلی پر اخراجات میں کمی، آر ڈی اے فنڈز کی خصوصی اقتصادی زونز اور ایگرو پروسیسنگ شعبوں میں ترسیل اور کارپوریٹ فارن کرنسی اکاﺅنٹس پر ضابطوں کو آسان بنانا شامل ہیں. رپورٹ میں زرمبادلہ کے ذخائر کے بہتر انتظام کے لیے ایک منظم فلوٹ یا پیگ اینڈ ریویلیو نظام کی سفارش کی گئی ہے جو کرنسی کو حقیقی موثر شرح مبادلہ سے منسلک کرتا ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فکسڈ اور فلوٹنگ ایکسچینج ریٹ نظام کے درمیان بار بار کی تبدیلیوں نے روپے کی قدر کو متاثر کیا جس کے باعث تجارتی خسارہ بڑھا، درآمدات مہنگی ہوئیں اور اقتصادی استحکام کو دھچکا پہنچا.

رپورٹ میںاس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کے انتظام کے لیے ایک زیادہ مستحکم اور حکمت عملی پر مبنی فریم ورک اپنانا ہوگا، تاکہ کرنسی کے اتار چڑھاﺅ سے بچا جاسکے، اقتصادی لچک پیدا کی جاسکے اور برآمدات کی بنیاد پر پائیدار ترقی حاصل کی جاسکے اگرچہ ترسیلات زر نے خود کو ایک حد تک لچکدار ذریعہ ثابت کیا ہے تاہم رپورٹ کے مطابق یہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے واحد بفر کے طور پر کافی نہیں ہیں.

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کی پالیسیوں میں فکسڈ اور فلوٹنگ ایکسچینج ریٹ کے درمیان بار بار کی تبدیلیوں نے حالیہ برسوں میں روپے کی قدر میں کمی کو ہوا دی اس مسلسل گراوٹ کے نتیجے میں تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا، درآمدی اشیا کی لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور معاشی استحکام بری طرح متاثر ہوا ہے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رپورٹ میں زرمبادلہ کے ذخائر کے انتظام کے لیے ایک زیادہ حکمت عملی پر مبنی، مستحکم اور منظم فریم ورک اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ کرنسی کی قدر میں غیر ضروری اتار چڑھاﺅ سے بچا جاسکے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جاسکے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے زرمبادلہ کے ذخائر کے اتار چڑھاﺅ پی آر اے سی ترسیلات زر پاکستان کی رپورٹ میں گیا ہے کہ کے لیے کی قدر

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے