حال ہی میں پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) بلال ثاقب کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان کرپٹو کرنسی میں بھارت کی نسبت زیادہ تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ٹیکنالوجی کے عالمی لیڈرز پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور بڑی کمپنیاں پاکستان آنا چاہتی ہیں۔

پاکستان میں حالیہ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ایسی کیا پیش رفت ہوئی ہے یا ایسا کیا سنگ میل عبور کیا گیا ہے جو پاکستان کرپٹو میں بھارت سے زیادہ تیزی سے ترقی کررہا ہے؟۔

یہ بھی پڑھیں کیا پاکستان کرپٹو مائننگ کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے؟

’ہمیں کوئی مؤثر عملی ڈھانچہ نظر نہیں آتا‘

کرنسی کے شعبے سے منسلک اور ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا حجم کافی زیادہ ہے تو یہ حقیقت سے زیادہ دور نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ایک اندازے کے مطابق 2 سے ڈھائی کروڑ افراد غیر قانونی طریقوں سے اس شعبے میں سرگرم ہیں، اگر اس بنیاد پر کہا جائے کہ ہم اس میدان میں آگے ہیں، تو یہ درحقیقت ایک افسوسناک برتری ہے، کیونکہ یہاں اس عمل کو روکنے یا منظم کرنے والا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر کوئی یہ کہے کہ ہم اس لیے آگے نکل گئے ہیں کیونکہ ہم نے کرپٹو کونسل قائم کردی ہے، بغیر کسی واضح قانون سازی یا ریگولیٹری ادارے کے، اور ایک سی ای او بھی مقرر کردیا ہے، تو شاید یہ ایک طرح کی پیشرفت سمجھی جا سکتی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کوئی مؤثر عملی ڈھانچہ نظر نہیں آتا۔

ظفر پراچہ نے اس حوالے سے نشاندہی کی کہ کسی بھی ادارے کی تشکیل کے لیے سب سے پہلے قانون سازی ہوتی ہے، بل پارلیمان سے پاس کیا جاتا ہے، اور پھر ادارے کے لیے تقرریاں عمل میں آتی ہیں، مگر یہاں ترتیب بالکل الٹ نظر آتی ہے۔ ’پہلے تقرریاں ہوئیں، پھر ادارے کی بات کی گئی، اور قانون سازی ابھی تک ایک سوالیہ نشان ہے۔‘

’ایکسچینج کمپنیوں کو مکمل نظرانداز کیا گیا‘

انہوں نے کہاکہ ایکسچینج کمپنیاں جو فارن ایکسچینج کے حوالے سے بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، انہیں اس تمام عمل میں نظرانداز کیا گیا۔ حالانکہ کرپٹو کا معاملہ بھی اسی دائرہ کار میں آتا ہے، اور انہی کمپنیوں کو اس شعبے میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال ثاقب کا کہنا ہے کہ عالمی سطح کی ٹیکنالوجی کمپنیاں پاکستان میں دلچسپی لے رہی ہیں اور یہاں آنا چاہتی ہیں۔ اس بات کی تائید ظفر پراچہ نے بھی کی۔ ان کے مطابق واقعی کئی کمپنیاں پاکستان میں دلچسپی رکھتی ہیں، کچھ آ چکی ہیں، اور بظاہر یہی کمپنیاں کرپٹو کونسل کی تشکیل میں تیزی کی وجہ بن رہی ہیں۔

ظفر پراچہ نے کہاکہ یہ کمپنیاں یہاں اس لیے آنا چاہتی ہیں کیونکہ پاکستان میں غیر قانونی کرپٹو مارکیٹ پہلے سے ہی وسیع ہے، ان کی خواہش ہے کہ اس مارکیٹ کو قانونی حیثیت دی جائے تاکہ انہیں بھی فائدہ پہنچے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کرپٹو کونسل کے قیام اور قانون سازی سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟ کیا اس سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا؟ کیا ٹیکس ریونیو بڑھے گا؟ یا صرف ہم انہیں قانونی پناہ گاہ فراہم کررہے ہیں؟

ایک سوال کے جواب میں ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ کرپٹو کمپنیاں پاکستان میں مواقع دیکھ رہی ہیں، انہیں لگتا ہے کہ یہاں قوانین نرم ہوں گے اور کاروبار آسانی سے چلے گا۔ وہ چاہتے ہیں کہ کم از کم بنیادی سطح کی کوئی ریگولیشن قائم ہو جائے تاکہ وہ یہاں دفاتر کھول سکیں اور منافع حاصل کر سکیں۔

کرپٹو کی قانونی حیثیت کے بارے میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی کرپٹو کو باقاعدہ قانونی دائرے میں لایا جائےگا۔

’حکومت کا کرپٹو کرنسی کی طرف بڑا رجحان نظر آرہا ہے‘

کرپٹو میں مہارت رکھنے والے ڈاکٹر اسامہ احسان نے کہاکہ حکومت کا کرپٹو کرنسی کی طرف بڑا رجحان نظر آرہا ہے، جس کے حوالے سے حال ہی میں بڑی ڈیولپمنٹ ہوئی ہے، جس میں حکومت کی جانب سے پاکستان ڈیجیٹل ایسٹ اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو ورچوئل اکانومی کو ریگولیٹ کرے گی، اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کرپٹو میں جو بھی سرمایہ کاری ہو، وہ ایف اے ٹی ایف کی ریگولیشن کے مطابق ہو۔

’دنیا بھر میں جتنے بھی ممالک نے کرپٹو کرنسی کو اپنایا، انہوں نے سب سے پہلے اپنے تمام قوانین کو دیکھا، اور کرپٹو کو مد نظر رکھ کر انہیں مزید مضبوط کیا، اور پھر کرپٹو کرنسی کو اس فریم ورک کا حصہ بنایا۔‘

اسامہ احسن کا مزید کہنا تھا کہ پہلے کرپٹو کرنسی واضح نہیں تھی، جس کی وجہ سے خطرات زیادہ تھے، لیکن اب حکومت نے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا جو قدم اٹھایا ہے اس سے کم از کم ٹرانزیکشنز کو چینلائز کیا جا سکے گا، اور فراڈ سے بچنے کا ایک میکانزم بن جائے گا، لیکن اب حکومت کو چاہیے جو کرپٹو ایکسچینجز ہیں جیسا کہ بائنانس، بٹ کوائن اور دیگر کرنسیاں، ان سب کو سب سے پہلے اپنے اس فریم ورک کے اندر لے کر آئے۔

’چیزیں سیدھی سمت میں آگے بڑھیں گی تو انڈسٹری میں تہلکہ نظر آئےگا‘

انہوں نے کہاکہ حکومت نے دوسرا بڑا اعلان 2000 میگاواٹ بجلی کرپٹو مائننگ کے لیے مختص کرنے کا کیا ہے، جیسے ہم نے موبائل فون اور الیکٹرک وہیکل پالیسی بنائی، جس سے ہماری معیشت کو فائدہ ہوا، انڈسٹری لگنا شروع ہوئی، اسی طرح سے کرپٹو پالیسی کے بعد جب ملک میں انویسٹرز آئیں گے، جس سے ہائی ٹیک جابز پیدا ہوں گی اور مجموعی طور پر فائدے ہوں گے۔

’اگر چیزیں سیدھی سمت میں چلیں گی، تو پرائیویٹ سیکٹرز آگے بڑھے گا، ٹریڈرز، یوزرز اور ایکسچینجرز پہلے سے ہی موجود ہیں، صرف لیگل فریم ورک کی ضرورت ہے، اس کے بعد اس انڈسٹری میں تہلکہ نظر آئے گا۔‘

یہ بھی پڑھیں پاکستان کرپٹو کونسل کا شاندار کارنامہ، مختصر وقت میں بڑی کامیابی حاصل کرلی

اسامہ احسن نے بتایا کہ یہ جو تمام چیزیں حکومت کی جانب سے تیزی سے ہوئی ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اس میں کافی دلچسپی رکھتی ہے، اور پاکستان جلد کرپٹو کو لیگلائز کر لے گا، اس میں کوئی شک نہیں پاکستان اس میدان میں تیزی سے ترقی کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلال ثاقب پاکستان پاکستان کرپٹو کونسل کرپٹو کرنسی کرپٹو مائننگ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلال ثاقب پاکستان پاکستان کرپٹو کونسل کرپٹو کرنسی کرپٹو مائننگ وی نیوز کمپنیاں پاکستان انہوں نے کہاکہ پاکستان کرپٹو ظفر پراچہ نے پاکستان میں کرپٹو کونسل کرپٹو کرنسی حوالے سے کرپٹو کو کیا گیا تیزی سے گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی