اطلاعات کے مطابق، امریکہ نے حماس کو اس بات کی ضمانت کی پیشکش کی ہے کہ جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات واقعی ہوں گے، اور یہ کہ اسرائیل پوری متفقہ مدت کے دوران جنگ بندی کی پابندی کرے گا، جو کہ ممکنہ طور پر 45 سے 60 دن کے درمیان ہو سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات میں ڈرامائی پیشرفت ہوئی ہے، غیر ملکی اور اسرائیلی ذرائع نے آج (بدھ) کو "کان نیوز" کو تصدیق کی کہ آئندہ چند دن ایک ممکنہ معاہدے کے حوالے سے نہایت اہم ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، امریکہ نے حماس کو اس بات کی ضمانت کی پیشکش کی ہے کہ جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات واقعی ہوں گے، اور یہ کہ اسرائیل پوری متفقہ مدت کے دوران جنگ بندی کی پابندی کرے گا، جو کہ ممکنہ طور پر 45 سے 60 دن کے درمیان ہو سکتی ہے۔اسرائیل نے امریکی ضمانت کی مخالفت نہیں کی، لیکن معاہدے کو اس شرط سے مشروط کیا ہے کہ حماس جنگ بندی کے پہلے ہفتے میں کم از کم دس زندہ یرغمالیوں کو رہا کرے، اور بعد میں مردہ یرغمالیوں کی واپسی بھی عمل میں لائی جائے۔ تاہم، یروشلم میں حکام اس بات کے خلاف ہیں کہ امریکہ جنگ کے مکمل خاتمے کی ضمانت دے۔

غیر ملکی ذرائع نے کہا کہ اگر اسرائیل جنگ کے خاتمے کے معاملے میں لچک دکھائے تو معاہدہ کل ہی طے پا سکتا ہے۔ اسرائیلی ذرائع اور دیگر متعلقہ فریقین نے زور دیا کہ یہ ایک اہم پیشرفت ہے مگر حتمی بریک تھرو نہیں۔ ادھر فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ حماس نے تاحال امریکی ثالث اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ کسی فریم ورک معاہدے پر دستخط نہیں کیے، اور ان کا اندازہ ہے کہ امریکی ایلچی آئندہ دنوں میں ایک نئی تجویز پیش کریں گے۔ ایک ایسا خاکہ جو ممکنہ طور پر تبدیل ہو سکتا ہے، خاص طور پر مستقل جنگ بندی کے معاملے میں، جو کہ حماس کی جانب سے ایک کلیدی شرط ہے۔ حماس نے آج اعلان کیا کہ اس کی وِٹکوف کے ساتھ "اصولی طور پر مفاہمت" ہو گئی ہے، تاہم اسرائیل نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ "پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ" ہے۔ ایک اعلیٰ اسرائیلی اہلکار کے مطابق: "حماس کی تجویز نہ تو اسرائیل کو قبول ہے اور نہ ہی امریکی انتظامیہ کو"۔

اس کے باوجود، خود وِٹکوف نے واضح کیا کہ "ہم ایک نئی شرائط کی دستاویز بھیجنے کے قریب ہیں، اور مجھے طویل المدت معاہدے کے امکانات کے حوالے سے اچھا احساس ہے"۔ وِٹکوف کے یہ بیانات ان پیغامات سے ہم آہنگ ہیں جو انہوں نے پہلے بھی دیے تھے، جن کے مطابق عارضی جنگ بندی ایک جامع حل کی بنیاد بن سکتی ہے۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ مرکزی مسئلہ یعنی جنگ کے مکمل خاتمے کا مطالبہ بدستور اختلاف کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس مرحلے پر، وِٹکوف ایک نئی اور زیادہ لچکدار تجویز پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، تاکہ فریقین کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے اور ایک ایسے معاہدے تک پہنچا جا سکے جو نہ صرف یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے بلکہ ممکنہ طور پر ایک طویل المدت تصفیہ کی راہ بھی ہموار کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنگ بندی کے کے مطابق کی ضمانت

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن