Daily Ausaf:
2026-07-24@07:22:11 GMT

ناموس رسالت کا تحفظ ، صرف نعرے نہیں عمل چاہیئے

اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT

دنیا بھر میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی حالات کے درمیان ایک ایسا مسئلہ مسلسل سر اٹھا رہا ہے جس نے نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ پوری انسانیت کو بے چین کر رکھا ہے اور وہ ہے توہینِ رسالت اور دیگر گستاخانہ مواد کا پھیلاؤ۔ مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہے اور جب اس بنیاد کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ پوری امت مسلمہ کے دل میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہوتا ہے۔ توہین آمیز خاکے، کتب، ویڈیوز، فلمیں اور آن لائن پوسٹس کسی ایک فرد یا گروہ کی ذہنی خباثت نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے تاکہ ان کے ردِ عمل کو بنیاد بنا کر انہیں دنیا کے سامنے شدت پسند کے طور پر پیش کیا جا سکے۔یہ صورتحال اس وقت مزید گھمبیر ہو جاتی ہے جب بین الاقوامی میڈیا ایسے گستاخانہ مواد کی اشاعت یا رپورٹنگ کو آزادی ٔ اظہار کا نام دے کر جواز فراہم کرتا ہے۔ یہ آزادی نہیں بلکہ کھلی منافقت ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کو صرف معاشی منافع یا ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک مقدس امانت جانا جائے جو انسانیت کی رہنمائی کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ اگر میڈیا ادارے اپنے ایڈیٹوریل پالیسیز میں مذہبی حساسیت کو شامل کریں، اگر سوشل میڈیا کمپنیاں ایسے مواد کو سنسر کرنے کے لیے مؤثر طریقے متعارف کروائیں، اگر صحافیوں کو مذہبی احترام اور بین الاقوامی اخلاقیات کی تربیت دی جائے تو یہ ممکن ہے کہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ہو سکے۔مسلم دنیا کے میڈیا اداروں کو بھی ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ صرف مغربی میڈیا کی تنقید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا جب تک ہم خود اپنا مؤثر اور مثبت بیانیہ دنیا کے سامنے نہیں رکھیں گے۔ ہمیں اپنی تحریروں، رپورٹنگ، ڈاکیومنٹریز اور آن لائن مہمات کے ذریعے دنیا کو یہ سمجھانا ہوگا کہ نبی کریمﷺ کی شخصیت امن، محبت، رحم، رواداری اور عدل کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ ہمیں بتانا ہوگا کہ اسلام وہ دین ہے جو صرف مسلمانوں ہی نہیں، پوری انسانیت کی فلاح کا پیغام لے کر آیا ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ امت مسلمہ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائے۔ توہین رسالت کو بین الاقوامی قانون کے تحت جرم قرار دیا جائے، جس طرح نسل پرستی، یہود دشمنی اور خواتین کی توہین پر قوانین موجود ہیں۔ اگر عالمی ضمیر آج بھی بیدار نہ ہوا تو دنیا شدید مذہبی تصادم کی طرف بڑھتی جائے گی۔سوال یہ بھی ہے کہ عام آدمی، ایک مسلمان، کیا کر سکتا ہے؟ پہلا قدم یہ ہے کہ ہم خود دین کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور دوسروں کو حسن اخلاق سے دعوت دیں۔ جذباتی نعرے، توڑ پھوڑاور خود ساختہ فتوے دین کو بدنام کرتے ہیں۔ ہمیں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کردار کا حصہ بنانا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر ایک محتاط، مدلل اور بااخلاق مؤقف اختیار کر کے ہم نہ صرف اپنے دین کا دفاع کر سکتے ہیں بلکہ دنیا کے دل جیت سکتے ہیں۔
ہمیں اپنے تعلیمی نصاب، میڈیا اداروں اور معاشرتی ڈھانچے کو اس نہج پر لانا ہوگا جہاں عقیدہ، برداشت اور رواداری ساتھ ساتھ چلیں۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو یہ نہ سمجھا سکے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت صرف جذباتی ردِ عمل کا نام نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی کا انتخاب ہے تو یہ خلا ہمارے کل کو برباد کر دے گا۔موجودہ دور میں میڈیا نہ صرف معاشرتی رویوں کو تشکیل دیتا ہے بلکہ رائے عامہ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ایسے میں اگر میڈیا اپنا رخ حق و صداقت، عدل و انصاف اور دینی احترام کی طرف موڑ لے تو نہ صرف گستاخانہ مواد کا سلسلہ رک سکتا ہے بلکہ دنیا کے اندر ایک بہتر مکالمے کا آغاز بھی ممکن ہے۔گستاخانہ مواد کو روکنے کے لیے ہمیں بیداری، حکمت عملی، میڈیا ریفارمز، قانونی اقدامات اور سب سے بڑھ کر نبی اکرم ﷺکی سیرت کے عالمی تعارف کی ضرورت ہے۔ تبھی ہم اس فتنے کا مؤثر مقابلہ کر سکیں گے۔
آئیے! عہد کریں کہ ہم صرف وقتی احتجاج نہیں کریں گے بلکہ ایسے مؤثر اقدامات اٹھائیں گے جن سے آئندہ کوئی بھی ہماری مقدس شخصیات کے خلاف زبان درازی سے پہلے ہزار بار سوچے۔ ہماری خاموشی دشمن کی جرأت کو بڑھاتی ہے۔ اب وقت ہے کہ امتِ مسلمہ متحد ہو کر، پرامن لیکن پرعزم انداز میں اس گستاخی کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کرے۔یہ وقت ہے کہ ہم میڈیا کو محض تفریح یا تجارت کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک تربیتی پلیٹ فارم میں تبدیل کریں۔اس پوری صورتحال میں علماء کرام، اساتذہ، والدین اور تمام باشعور طبقوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی اولاد کو بتانا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺکی ذات سے محبت کیا ہے اور اس محبت کا تقاضا کیا ہے۔ صرف نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہمارے لئے دین اور ایمان سب کچھ ہے۔ میڈیا پر اسلامی اقدار کی نمائندگی، دینی معلومات کے فروغ اور اخلاقی پیغامات کی ترویج ہی وہ واحد راستہ ہے جو نہ صرف گستاخانہ مواد کا مؤثر جواب دے سکتا ہے بلکہ دنیا کے سامنے اسلام کا اصل چہرہ بھی پیش کر سکتا ہے۔گستاخی کا جواب دلیل، شعور، اتحاد، قانون اور اخلاق کے ہتھیاروں سے دینا ہوگا۔ اگر ہم میڈیا کو صحیح رخ پر استعمال کرنا سیکھ جائیں، تو یہ وہی طاقت بن سکتی ہے جو آج ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خوابوں سے بیدار ہو کر عملی اقدامات کی طرف بڑھیں، کیونکہ دین، ایمان اور عقیدت کا تحفظ صرف جذبات سے نہیں بلکہ حکمت، حکمت عملی اور اجتماعی شعور سے ممکن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: گستاخانہ مواد نہیں بلکہ ہیں بلکہ ہوگا کہ سکتا ہے دنیا کے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال