کانفرنس میں شہید آیت اللہ رئیسی کی صاحبزادی، ممتاز علمی شخصیت و تہران یونیورسٹی کی استاد پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں اور خطاب کیا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کے زیر اہتمام شہید ایرانی صدر آیت اللہ ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی و انکے شہید رفقاء کی یاد میں کانفرنس بعنوان ’’شہید آیت‌ اللہ رئیسی کی حکمرانی کا ماڈل‘‘ کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس میں شہید آیت اللہ رئیسی کی صاحبزادی، ممتاز علمی شخصیت و تہران یونیورسٹی کی استاد پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں اور خطاب کیا۔ اس موقع پر کراچی میں ایرانی قونصل خانے کے مسئول ڈاکٹر واحد اصغری، ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ایران ڈاکٹر سعید طالبی‌ نیا، جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر عامر حسین اور جامعہ الزہراء کراچی کی سربراہ خانم طاہره فاضلی نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں جامعات اور مدارس کے اساتذہ، علماء، طلبہ و طالبات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، کراچی میں مقیم ایرانی شہریوں نے اہلخانہ سمیت شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد شہید رئیسی کی اسلامی، انقلابی اور عدل پر مبنی حکمرانی کے اصولوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور اُن کے فکر و عمل کو روشناس کروانا تھا۔

شہید کی صاحبزادی پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ رئیسی نے اپنے خصوصی خطاب میں میں شہید رئیسی کی حکمرانی کے ماڈل پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ ان کا طرزِ حکمرانی دنیا کے تمام حکمرانوں کیلئے انسانیت کی خدمت کیلئے ایک عملی نمونہ بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی محبت اور اخلاص نے اُن کے دل کو چھو لیا۔ اُنہوں نے یاد دلایا کہ اُن کے والد پاکستان کو امت مسلمہ کی وحدت کا سنگ میل سمجھتے تھے اور ہمیشہ ایران و پاکستان کے تعلقات کو فروغ دینے کی بات کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کی پوری زندگی عدل، انصاف، مزاحمت اور امت واحدہ کیلئے وقف تھی، اور اُن کی شہادت بھی اسی راستے کا تسلسل ہے۔ دیگر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ شہید رئیسی نہ صرف ایران بلکہ تمام مسلم دنیا کیلئے ایک ایسا کردار تھے، جنہوں نے دیانت، شجاعت اور استقامت کے ساتھ قیادت کی، اُن کی حکمرانی کا انداز عالمی سطح پر ایک نیا بیانیہ لے کر آیا، جو مزاحمت، غیرت اور اسلامی تشخص پر مبنی تھا۔

مقررین نے شہید رئیسی کو ایک ایسا قائد قرار دیا، جو اسلامی اصولوں پر کاربند، عوام دوست، اور مظلوموں کا حقیقی حامی تھا، اُن کی قیادت صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پوری اُمت مسلمہ کیلئے مشعلِ راہ بن چکی ہے۔ مقررین نے کہا کہ شہید رئیسی نے ہمیشہ اقتدار کو خدمت کا ذریعہ سمجھا، خصوصاً محروم طبقات کیلئے۔ کانفرنس کے دوران کراچی کے معروف نونہالوں کے گروپ "صبحِ ظہور" نے شہید آیت‌ اللہ رئیسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک خوبصورت ترانہ پیش کیا۔ تقریب پاکستانی میڈیا کیلئے بھی خاص اہمیت کی حامل رہی، آٹھ پاکستانی ٹی وی چینلز، خبرگزاری صدا و سیما اور درجنوں مقامی اخبارات نے تقریب کو نمایاں طور پر کوریج دی۔ کانفرنس کے اختتام پر مہمانوں کو پُرتکلف عشائیہ بھی پیش کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پروفیسر ڈاکٹر اللہ رئیسی کی ڈاکٹر ریحانہ کی حکمرانی شہید رئیسی

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری