کراچی، خانہ فرہنگ ایران میں کانفرنس "شہید آیت اللہ رئیسی کی حکمرانی کا ماڈل" کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
کانفرنس میں شہید آیت اللہ رئیسی کی صاحبزادی، ممتاز علمی شخصیت و تہران یونیورسٹی کی استاد پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں اور خطاب کیا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کے زیر اہتمام شہید ایرانی صدر آیت اللہ ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی و انکے شہید رفقاء کی یاد میں کانفرنس بعنوان ’’شہید آیت اللہ رئیسی کی حکمرانی کا ماڈل‘‘ کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس میں شہید آیت اللہ رئیسی کی صاحبزادی، ممتاز علمی شخصیت و تہران یونیورسٹی کی استاد پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں اور خطاب کیا۔ اس موقع پر کراچی میں ایرانی قونصل خانے کے مسئول ڈاکٹر واحد اصغری، ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ایران ڈاکٹر سعید طالبی نیا، جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر عامر حسین اور جامعہ الزہراء کراچی کی سربراہ خانم طاہره فاضلی نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں جامعات اور مدارس کے اساتذہ، علماء، طلبہ و طالبات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، کراچی میں مقیم ایرانی شہریوں نے اہلخانہ سمیت شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد شہید رئیسی کی اسلامی، انقلابی اور عدل پر مبنی حکمرانی کے اصولوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور اُن کے فکر و عمل کو روشناس کروانا تھا۔
شہید کی صاحبزادی پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ رئیسی نے اپنے خصوصی خطاب میں میں شہید رئیسی کی حکمرانی کے ماڈل پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ ان کا طرزِ حکمرانی دنیا کے تمام حکمرانوں کیلئے انسانیت کی خدمت کیلئے ایک عملی نمونہ بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی محبت اور اخلاص نے اُن کے دل کو چھو لیا۔ اُنہوں نے یاد دلایا کہ اُن کے والد پاکستان کو امت مسلمہ کی وحدت کا سنگ میل سمجھتے تھے اور ہمیشہ ایران و پاکستان کے تعلقات کو فروغ دینے کی بات کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کی پوری زندگی عدل، انصاف، مزاحمت اور امت واحدہ کیلئے وقف تھی، اور اُن کی شہادت بھی اسی راستے کا تسلسل ہے۔ دیگر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ شہید رئیسی نہ صرف ایران بلکہ تمام مسلم دنیا کیلئے ایک ایسا کردار تھے، جنہوں نے دیانت، شجاعت اور استقامت کے ساتھ قیادت کی، اُن کی حکمرانی کا انداز عالمی سطح پر ایک نیا بیانیہ لے کر آیا، جو مزاحمت، غیرت اور اسلامی تشخص پر مبنی تھا۔
مقررین نے شہید رئیسی کو ایک ایسا قائد قرار دیا، جو اسلامی اصولوں پر کاربند، عوام دوست، اور مظلوموں کا حقیقی حامی تھا، اُن کی قیادت صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پوری اُمت مسلمہ کیلئے مشعلِ راہ بن چکی ہے۔ مقررین نے کہا کہ شہید رئیسی نے ہمیشہ اقتدار کو خدمت کا ذریعہ سمجھا، خصوصاً محروم طبقات کیلئے۔ کانفرنس کے دوران کراچی کے معروف نونہالوں کے گروپ "صبحِ ظہور" نے شہید آیت اللہ رئیسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک خوبصورت ترانہ پیش کیا۔ تقریب پاکستانی میڈیا کیلئے بھی خاص اہمیت کی حامل رہی، آٹھ پاکستانی ٹی وی چینلز، خبرگزاری صدا و سیما اور درجنوں مقامی اخبارات نے تقریب کو نمایاں طور پر کوریج دی۔ کانفرنس کے اختتام پر مہمانوں کو پُرتکلف عشائیہ بھی پیش کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پروفیسر ڈاکٹر اللہ رئیسی کی ڈاکٹر ریحانہ کی حکمرانی شہید رئیسی
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔