واشنگٹن:

امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے واشنگٹن میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے زیراہتمام ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی پالیسی سازوں، سفارت کاروں، سرمایہ کاروں اور بزنس کمیونٹی کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ زراعت، آئی ٹی اور معدنی وسائل جیسے شعبے امریکی سرمایہ کاروں کے لیے نادر مواقع فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری امریکی کمپنیوں کے لیے کم لاگت اور اعلیٰ معیار کی خدمات حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ پاکستان، امریکہ کے مقابلے میں 70 فیصد تک کم لاگت پر آئی ٹی سروسز فراہم کر رہا ہے۔

سفیر رضوان سعید شیخ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں کام کرنے والی 80 سے زائد امریکی کمپنیوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک منافع بخش، مستحکم اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کے لیے ریگولیٹری ماحول کو مزید آسان، دوستانہ اور سازگار بنا رہی ہے اور کاروباری طبقے کو سہولتوں کی فراہمی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

سفیر پاکستان نے اپنے خطاب میں حالیہ پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی اور جارحیت ایسے وقت پر کی گئی جب پاکستان مکمل یکسوئی سے معاشی ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔

پاکستان نے جارحیت کا مؤثر جواب دیا جس پر ہمیں قومی سطح پر فخر ہے، لیکن ہماری اولین ترجیح ہمیشہ امن رہی ہے کیونکہ یہی معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی لانے اور جنگ بندی کی کوششوں میں امریکی قیادت نے اہم کردار ادا کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی مضبوطی کا مظہر ہے۔

سفیر رضوان سعید شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ سفارتی، سیاسی اور معاشی تعلقات قائم ہیں، جنہیں مزید وسعت دینا ان کی سفارتی ترجیحات میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکی کاٹن کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، سویابین درآمد کر رہا ہے، اور خطے میں ایک علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر ابھرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ ہم میکسیکو کی طرز پر امریکہ کے لیے ایک کنیکٹر کنٹری کے طور پر کام کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔

سفیر پاکستان نے امریکی سرمایہ کاروں کو یاد دلایا کہ پاکستان نہ صرف اپنی 25 کروڑ آبادی کی وجہ سے ایک بڑی صارف منڈی ہے بلکہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک اہم جغرافیائی تجارتی پل بھی ہے۔

انہوں نے امریکہ میں موجود دس لاکھ پاکستانی نژاد کمیونٹی کو دونوں ممالک کے تعلقات کی سب سے پائیدار کڑی قرار دیا۔

آخر میں سفیر پاکستان نے امریکی کارپوریشنز، ریاستی حکومتوں اور نجی کاروباری اداروں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان آئیں، مواقع کا خود مشاہدہ کریں اور خطے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سفیر رضوان سعید شیخ سفیر پاکستان نے سرمایہ کاروں سرمایہ کاری کہ پاکستان نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا