ہانگ کانگ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 30 مئی ۔2025 ) وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ہانگ کانگ میں منعقدہ بین الاقوامی ثالثی تنظیم کے قیام سے متعلق کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمارے مشرقی پڑوسی نے حال میں بلا اشتعال اور غیر منصفانہ فوجی جارحیت کا مظاہرہ کیا، بھارتی اقدام سے جنوبی ایشیا کا امن خطرات سے دو چار ہوا سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے.

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ جنوبی ایشیا میں تنازع کی بنیاد ہے، لہذا اس تنازع کو سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہش کے مطابق فوری حل کیا جائے کشمیریوں کو استصواب رائے ملنے تک مسئلہ کشمیر تنازع بنا رہے گا انہوں نے کہا ہے کہ عالمی تنازعات خطے اور عالمی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہیں، امن کیلئے سلامتی کونسل کی قردادوں اور عالمی قوانین پر عمل ضروری ہے.

اسحاق ڈار نے کہا خطے میں انتخابی سیاست کے حصول کیلئے عالمی امن کوداپر لگایا جارہاہے،بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی خطرناک مثال قائم کررہی ہیں اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں سفارتکاری، ثالثی، مذاکرات اور عالمی تعاون ناگزیر ہے علاوہ ازیں وزیر خارجہ نے بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کے قیام سے متعلق کنونشن پر دستخط بھی کر دیئے.

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس تاریخی تقریب میں شرکت باعث فخر ہے،تاریخی تقریب کے انعقاد پر چین کی حکومت اور عوام کو مبارکباد دیتاہوں،آج کے معاہدے پر دستخط عالمی ثالثی اور سفارتکاری کے نئے دور کا آغاز ہے،آج کامعاہد ہ عالمی تنازعات کے حل کیلئے نئے دروازے کھولے گا. انہوں نے کہا پاکستان نے عالمی تنازعات کیلئے بین الاقوامی ثالثی مرکز بنایا، اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل سے ہی قیام امن اور عالمی ترقی ممکن ہے،قیام امن کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی قوانین پر عمل ضروری ہے، موجودہ حالات میں سفارتکاری، ثالثی، مذاکرات اورعالمی تعاون ناگزیر ہے،آج ہماری یہاں موجودگی عالمی امن کیلئے ہمارے عزم کی عکاس ہے.

انہوں نے کہا کہ آج سے پہلے آنے والی نسلوں کو جنگ سے بچانے کی اتنی ضرورت نہیں تھی،مقبوضہ کشمیر اورمقبوضہ فلسطین میں غاصب قوتیں قابض ہیں،مقبوضہ فلسطین کی آزادی تک امن کے خواب کا حصول ممکن نہیں، یہ عالمی تنازعات خطے اور عالمی امن واستحکام کیلئے خطرہ ہیں. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عالمی تنازعات اسحاق ڈار نے انہوں نے کہا اور عالمی عالمی امن

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار