بھارت کا سپر پاور بننے کا خواب چکنا چور
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور 24 کروڑ پاکستانیوں کے اس بنیادی حق پر آنچ نہیں آنے دیں گے، پاکستان، ہندوستان کی اجارہ داری کبھی قبول نہیں کرے گا، کشمیرکا کوئی بھی سودا ممکن نہیں، ہم کبھی بھی کشمیر کو بھول نہیں سکتے، ہندوستان جان لے کہ پاکستان کشمیرکوکبھی نہیں چھوڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، پرنسپلز اور سینئر اساتذہ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
بلاشبہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پوری قوم کا فخر ہیں جن کی بہترین جنگی حکمت عملی کی بدولت پاکستان سرخرو ہوا۔ ان کی قیادت میں تینوں افواج نے بھارت کے تمام عزائم خاک میں ملادیے۔ ان کی اساتذہ اور طلبہ سے مدلل گفتگوکے جو نکات سامنے آئے ہیں، ان کے مطابق مسئلہ کشمیر، پانی کی تقسیم اور دہشت گردی سے دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کو ایک مستقل خطرہ لاحق ہے۔
بھارت نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ایک مشکوک واقعے کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی، جس سے خطے کا امن خطرے میں پڑگیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان نے تحمل اور ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کرکرارا جواب دیا۔
بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی اور پاکستان نے یہ جنگ جیت لی۔ بین الاقوامی طور پر بھی دیکھیں تو پاکستان جنگ جیت گیا ہے، لیکن دوسری جانب تنازعات کے پرامن حل میں شامل ہونے سے ہندوستان کا انکار یکطرفہ اور بین الاقوامی اصولوں کو نظر اندازکرنے کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے نہ صرف پاکستان بلکہ علاقائی امن اور سفارت کاری پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا اور سنگین تنازع مسئلہ کشمیر ہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت کشمیر کے الحاق کے معاملے پر پیدا ہونے والا یہ تنازع آج تک حل طلب ہے۔
اس تنازعے کے باعث دونوں ملکوں میں تین بڑی جنگیں اور بے شمار جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ 7 سے 10مئی تک جاری رہنے والے حالیہ تصادم کی وجہ بھی مسئلہ کشمیر ہی ہے،کیونکہ مقبوضہ کشمیرکے سیاحتی مقام پہلگام میں 22 اپریل کو سیاحوں پر ہونے والے حملے کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کر دیا، مگر پاکستان کی جانب سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے کے باوجود بھارت اس طرف نہیں آیا اور مسلسل مبارزت طلب رہا۔اس طرح بھارتی جنگی جنون جنوبی ایشیا کی دو جوہری قوتوں کو ایک بڑی جنگی کے کنارے پر لے آیا تھا۔ اسی طرح جنوبی ایشیا کے پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیرکا حل نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
یہ تنازع نہ صرف خطے کی سلامتی کو متاثرکرتا ہے بلکہ دو ایٹمی قوتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی پیچیدگیوں کی بنیادی وجہ بھی ہے۔ پاکستان کا تاریخی موقف ہے کہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینا ہی اس مسئلے کا واحد قانونی اور اخلاقی حل ہے۔1947میں آزادی کے بعد برصغیرکی ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ عوام کی منشا سے پاکستان یا بھارت میں شمولیت کا انتخاب کر سکتی ہیں، مگر جموں وکشمیر، جس کی اکثریت مسلمان آبادی تھی، کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے عوامی منشا کے خلاف بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا۔
اس فیصلے کے خلاف کشمیری عوام نے بغاوت کی جس کے نتیجے میں پہلی پاک بھارت جنگ (1947-48) چھڑگئی۔ تنازعے کو اقوام متحدہ میں لے جایا گیا جہاں قرارداد 47 (1948) اور بعد میں قرارداد 91 (1951) کے ذریعے استصواب رائے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے لیے ایک خصوصی کمیشن (UNCIP) تشکیل دیا گیا، لیکن بھارت کی جانب سے فوجی انخلا نہ کرنے کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
مسئلہ کشمیرکا حل نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی اہم ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اورکشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن حل کی حمایت کرتا رہے گا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں ملتا جنوبی ایشیا میں حقیقی امن کا حصول ممکن نہیں۔ قائداعظم نے یونہی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار نہیں دیا تھا۔کشمیر سے نکلنے والے دریا پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے آبِ حیات کا درجہ رکھتے ہیں۔ بھارت کی مودی سرکار نے پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش پہلے بھی کی اور اب کرنے جا رہا ہے۔
2019میں مقبوضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ’’ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے‘‘مودی کی جانب سے یہ الفاظ پانی کو جنگ کے ہتھیارکے طور پر استعمال کرنے کی دھمکی تھی۔ حال ہی میں پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کرکے اور بعد ازاں دریائے چناب اور جہلم کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈال کر عملی طور پر بھی یہ ثابت کردیا ہے۔
ان واقعات سے پاکستان کے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ بھارت پانی کے بہاؤکو روک کر پاکستان کے لیے معاشی اور زرعی بحران پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے کیونکہ پاکستان کی زرعی معیشت دریاؤں کے پانی پر انحصارکرتی ہے اور سندھ طاس معاہدہ کے خلاف مغربی دریاؤں پر بھارتی کنٹرول سے متعدد خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی کسی طرح ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث رہا ہے جسے موجودہ تناظر میں کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے مستند شواہد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے بارہا بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ پاکستان بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے۔
بھارت گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران بلوچستان میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی خفیہ مہم چلا رہا ہے۔ پاکستان بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی کے سالہا سال سے ناقابل تردید ثبوت پیش کررہا ہے۔ 2009 میں مصرکے شہر شرم الشیخ میں دوطرفہ بات چیت کے دوران باضابطہ طور پر بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا معاملہ اٹھایا گیا۔ شرم الشیخ میں پاکستان نے اپنی سرزمین پر بھارتی انٹیلی جنس کارروائیوں پر پہلی مرتبہ خدشات اظہارکیا۔
وکی لیکس 2010میں اس بات کا انکشاف سامنے آیا کہ ’’امریکی سفارتی کیبلز کے مطابق بین الاقوامی مبصرین پاکستان میں بھارتی خفیہ سرگرمیوں بشمول بلوچستان میں بدامنی سے منسلک کارروائیوں سے آگاہ تھے۔‘‘ 2015 میں پاکستان نے اپنی شکایات کو عالمی سطح پر لے جا کر اقوام متحدہ کو ایک تفصیلی ڈوزیئر پیش کیا، جس میں بلوچستان میں دہشت گردی کی سرپرستی میں بھارت کے کردار کا خاکہ پیش کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد اور بھارتی حکومت کا انھیں تسلیم نہ کرنا خطے کو جنگ کی جانب دھکیل رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بار بار بھارتی دہشت گردی کے شواہد دیے جا رہے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ان پر عمل درآمد کیا جائے۔
بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار پاکستان تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہیں۔ بھارت پاکستان میں اپنے پراکسیز کے ذریعہ دہشت گردی کرتا ہے، جب پاکستان نے دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ کرنا شروع کی تو بھارت اپنی فوج کے ذریعے براہ راست دہشت گردی پر اتر آیا۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے اپنے پراکسی دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔
یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کس طرح ملوث ہے۔ بھارت کی جارحانہ پالیسی اور طاقت کے ذریعے غلبے کی کوششیں جنوبی ایشیا کو ایک خطرناک نیوکلیئر تصادم کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ پاکستان میں ’’ ہارڈ اسٹیٹ‘‘ کے مزید سخت ہونے کا وقت ہے۔ آخرکار ہمارے ہمسائے نے بھی اس مفروضے پر یقین کیا کہ پاکستان کے اندرونی مسائل اور تقسیم اسے ’’ مناسب جواب‘‘ دینے سے روکیں گے جوکہ غلط ثابت ہوا۔ تاہم یہ سمجھنا اب بھی ضروری ہے کہ مزید جھڑپوں کے امکان کے پیش نظر، اندرونی مسائل حل کرنا زیادہ ضروری ہے۔
اس بات سے قطع نظرکہ 2019 اور 2025میں ہونے والی پاک بھارت جھڑپوں کا اختتام کیسے ہوا، پڑوسی حکومت کی مالی حیثیت اسے اس طرح کی محدود محاذ آرائی کے لیے مستقبل میں بھی متحرک کرے گی اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر ہوگا کہ پاکستان بھی اپنی معیشت کو مضبوط، مستحکم بنائے اور قرضوں پر اپنا انحصارکم کرنے پر توجہ دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریاستی دہشت گردی بین الاقوامی بلوچستان میں دہشت گردی کے جنوبی ایشیا پاکستان میں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان نے پاکستان کی کی جانب سے میں بھارت کے ذریعے کے مطابق بھارت کے کہ بھارت بھارت نے بھارت کی کے خلاف رہا ہے کے لیے کو ایک
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔