گلیشیئر محض برف نہیں بلکہ ذریعہ حیات ہیں، امینہ محمد
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 31 مئی 2025ء) اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے جمعرات کو تاجکستان کے ونج یاخ گلیشیئر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بہت بڑے پیمانے پر ٹھوس برف کا دلکش نظارہ دیکھا جسے اب معدومیت کا خطرہ لاحق ہے۔
ملک کے شمالی علاقے میں واقع یہ گلیشیئر وسطی ایشیا میں بہت سے لوگوں کے لیے پانی کا اہم ترین ذریعہ ہے جس پر لاکھوں زندگیوں اور روزگار کا انحصار ہے۔
لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہا ہے اور گزشتہ آٹھ دہائیوں میں اس نے اولمپک سائز کے 6.4 ملین تالابوں کے برابر پانی کھو دیا ہے۔
29 مئی سے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں گلیشیئروں کے تحفظ پر شروع ہونے والی عالمی کانفرنس میں ایسے مسائل پر بات چیت ہو رہی ہے جن کے باعث گلیشیئر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور ان سے وابستہ زندگیاں اور روزگار بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
(جاری ہے)
یہ کانفرنس یکم جون تک جاری رہے گی۔کانفرنس میں بات کرتے ہوئے امینہ محمد کا کہنا تھا کہ گلیشیئر محض برف نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے خوراک، پانی اور تحفظ کے ضامن ہیں۔
گلیشیئروں کی موتگلیشیئر اور برف کی تہیں دنیا کا تقریباً 70 فیصد تازہ پانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں اور اس طرح یہ انسان اور معیشتوں کی بقا کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
گزشتہ چھ میں سے پانچ برس کے دوران گلیشیئر جس رفتار سے پگھلے ہیں اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی سیکرٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلیشیئر مر رہے ہیں۔ کسی گلیشیئر کی موت کا مطلب بہت بڑی تعداد میں برف کا ختم ہو جانا ہے۔ یہ دنیا کے ماحولیاتی نظام، معیشتوں اور سماجی تانے بانے کی موت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلیشیئروں کے پگھلنے سے سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے جیسے واقعات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے جبکہ یہ پگھلاؤ زراعت اور جنگلات سمیت کئی شعبوں پر بھی منفی طور سے اثرانداز ہوتا ہے۔
انسان اور زمین کا تحفظامینہ محمد نے کہا کہ گلیشیئر جس رفتار سے پگھل رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے عالمی برادری کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ لوگوں اور کرہ ارض کو تحفظ دینے کے کام میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔
رواں سال نومبر میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس 'کاپ 30' سے قبل دوشنبے میں ہونے والی اس کانفرنس میں گلیشیئروں کے تحفظ کو عالمی موسمیاتی ایجنڈے میں سرفہرست لانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر سیلیسٹ ساؤلو کا کہنا تھا کہ گلیشیئروں کی نگرانی اور ان کے خاتمے کے حوالے سے انتباہی نظام کو بہتر بنانے سے سائنس اور خدمات کے مابین فرق کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
گلیشیئروں کے پگھلاؤ کی رفتار کو سست کرنے کے لیے طے پانے والے فیصلوں کو ٹھوس اقدامات میں بدلنا ضروری ہے۔بین النسلی بات چیتامینہ محمد نے تاجکستان میں موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے کام میں سرگرم نوجوانوں سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ گلیشیئروں کے تیزرفتار پگھلاؤ کو روکنے کے اقدامات بین الاقوامی اور کانفرنس میں ہونے والی بات چیت کے مطابق ہونا چاہئیں۔
آج جو فیصلے لیے جائیں گے وہ آنے والی نسلوں کی زندگی پر اثرانداز ہوں گے۔ کسی فرد کے مستقبل کو اس کی رائے لیے بغیر متشکل کرنے سے ان کے وہ حقوق متاثر ہوتے ہیں جنہوں نے ان کے مستقبل اور امنگوں کا تعین کرنا ہو۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ نوجوان مستقبل کے لیے اپنے تصور کی وکالت جاری رکھیں گے۔ انہیں آواز اٹھاتے رہنا اور یاد رکھنا ہو گا کہ یہ زندگی کے سفر کا معاملہ ہے اور اس میں اٹھایا جانے والا ہر قدم اہم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گلیشیئروں کے کانفرنس میں کہ گلیشیئر انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔