ایشین ایتھلیٹکس؛ 1973 کے بعد پاکستان کیلئے پہلا گولڈ میڈل
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
ایشین ایتھلیٹکس چیمپئین شپ میں ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیت کر نئی تاریخ رقم کردی۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئین شپ کی تاریخ میں 1973 کے بعد پہلی بار پاکستان کو گولڈ میڈل جتوایا۔
پیرس اولمپکس میں بھارت کے نیرج چوپڑا کو ہرا کر جیولن تھرور میں گولڈ میڈل لینے والے ارشد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئین شپ میں یہی کارنامہ دہرایا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے ارشد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئین شپ میں گولڈ میڈل جیت لیا
جنوبی کوریا میں جاری چیمپئین شپ میں ارشد ندیم نے آخری تھرو 86.
چیمپئین شپ میں بھارت کے سچن یادو نے 85.16 میٹر کی تھرو کرکے چاندی جبکہ جاپان کے یوٹا ساکیاما نے 83.75 کی تھرو کرکے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے آخری مرتبہ اس ایونٹ میں 1973 میں گولڈ میڈل جیتے تھے، پاکستان نے فلپائن میں ہونے والے مقابلوں میں جیولن تھرو میں (اللہ داد) اور 800 میٹر میں (محمد یونس) نے گولڈ میڈل جیتے تھے۔
ایشین ایتھلیٹکس چیمپین شپ میں ارشد ندیم 50 سال سے زائد عرصہ میں گولڈ جیتنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایشین ایتھلیٹکس چیمپئین شپ چیمپئین شپ میں گولڈ میڈل میں گولڈ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔