پاکستانی مسلح افواج کے ہاتھوں ہزیمت کے بعد بھارتی حکومت اور وزیراعظم مودی تاحال تنقید کی زد میں ہے۔

مدھیہ پردیش کے کانگریس صدر جیتو پٹواری کا مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہنا تھا کہ مودی جی آپ سندور کی بات کرتے ہیں، آپ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ مدھیہ پردیش میں روزانہ 25 بیٹیوں کی عصمت دری کیوں ہوتی ہے؟

جیتو پٹواری نے کہا کہ آپ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ بالا گھاٹ میں درندے رات بھر چار بیٹیوں کی عصمت دری کرتے رہے، جس طرح کی عصمت دردی کی باتیں اب ہوتی ہیں کیا آپ نے پہلے کبھی ایسی باتیں سنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو بتانا ہوگا کہ تین ہزار کی گارنٹی تھی، آپ اس سندور کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے انہیں گارنٹی دی، تین ہزار کا کیا ہوا، ان بہنوں کی عزت کا کیا ہوا۔

مدھیہ پردیش کے کانگریس کے صدر کا کہنا ہے کہ مودی آپ بھوپال میں سندور کی بات کر رہے ہیں آپ کے وزیر اعلیٰ وزیر داخلہ بھی ہیں، ان بہنوں کے اعتماد کا کیا ہوا، آپ اس کا جواب کیوں نہیں دینا چاہتے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندور کی

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان