شریف خاندان نے پرانی روش اپنا کر دھاندلی نہیں کھلم کھلا ’’دھاندلا‘‘ کیا: بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
پشاور (نیوز ڈیسک) مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ شریف خاندان نے پرانی روش اپنا کر دھاندلی نہیں بلکہ کھلم کھلا ’’دھاندلا‘‘ کیا ہے۔
اپنے بیان میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ سمبڑیال کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن جیتنے کے باوجود مایوس، جبکہ تحریک انصاف ہار کر بھی مطمئن ہے، آر اوز کے دفاتر کے باہر ’’بانی چیئرمین زندہ باد‘‘ کے نعرے گونج رہے تھے، اندر نتائج میں تبدیلی کی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ شریف خاندان نے پرانی روش اختیار کر کے دھاندلی نہیں بلکہ کھلم کھلا ’’دھاندلا‘‘ کیا ہے، جعلی حکومت کب تک انتخابی نتائج تبدیل کرتی رہے گی؟ سچ زیادہ دیر چھپ نہیں سکتا۔
صوبائی مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مقبولیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا، یہ انتخابی نتائج نہ صرف مریم نواز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہیں، مریم نواز کا ترقیاتی سفر صرف ٹک ٹاک ویڈیوز تک محدود ہے، عوام نے انتخابات میں ٹک ٹاک منصوبوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔