Express News:
2026-06-02@23:27:23 GMT

ایک افریقی سیاسی راک اسٹار کی تقریر (حصہ اول)

اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT

اردو صحافت میں افریقہ کا ذکر ہوتا بھی ہے تو انسانی اسمگلنگ ، خانہ جنگی ، قحط سالی اور پسماندگی کے حوالے سے ہوتا ہے۔ کبھی کبھار منڈیلا ، نکروما ، لوممبا یا سنکارا جیسے انقلابیوں کا مختصر ذکر بھی ہو جاتا ہے۔مگر آج کا افریقہ کیا سوچ رہا ہے اور وہاں کیا تبدیلیاں انگڑائیاں لے رہی ہیں۔ہم میں سے اکثر اس کی کھوج کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔

اس پس منظر میں ان دنوں سوشل میڈیا پر افریقی نوجوانوں کی آنکھ کا تارہ اگر کوئی ہے تو وہ ہے مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو کا فوجی صدر سینتیس سالہ کیپٹن ابراہیم ترورے۔

دو ہزار بائیس میں سابق نوآبادیاتی طاقت فرانس کی حاشیہ بردار حکومت کا تختہ پلٹنے والے کیپٹن ترورے نے آتے ہی فرانسیسی فوجی اڈے بند کر دیے اور روس اور چین سے مراسم بڑھا لیے۔وہ اب مغربی افریقی ممالک کا ایک علاقائی اتحاد بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ابراہیم ترورے نے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران سونا نکالنے والی مغربی کمپنیوں سے برکینا فاسو کی حصہ داری کا مطالبہ منوایا۔زرعی اصلاحات کیں۔ کیپٹن ترورے کی توپوں کا رخ اکثر عالمی مالیاتی اداروں اور نو آبادیاتی طاقتوں کی جانب رہتا ہے مگر آئی ایم ایف اور عالمی بینک بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ کیپٹن ترورے کے دور میں برکینا فاسو کی معیشت میں قدرے بہتری آئی اور غربت کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔

کیپٹن ترورے بلا کے مقرر ہیں۔ان دنوں ان کی ایک تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہے جو انھوں نے ہمسایہ ملک گھانا کے نئے صدر کی تقریبِ حلف برداری کے موقع پر کی۔اس تقریب میں بائیسں دیگر افریقی سربراہانِ بھی موجود تھے۔ اس خطاب میں ایسا بہت کچھ ہے جو آپ کو شاید اپنا اپنا سا لگے۔لہٰذا میں کیپٹن ترورے کے اس خطاب کو تین قسطوں میں پیش کر رہا ہوں۔پڑھئے اور اپنے بارے میں بھی سوچیے۔

’’ عزیز افریقیو ،

قوموں کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب خاموش رہنا منافقت کے برابر ہے۔میرا نام کیپٹن ابراہیم ترورے ہے۔میں مہذب سفارتی زبان نہیں جانتا۔میں ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے بورڈ رومز میں بسی خوشبو سے بھی ناواقف ہوں۔ نہ واشنگٹن کا تربیت یافتہ ہوں نہ ہی جنیوا کے آداب جانتا ہوں۔میں تو اس محاذ پر ہوں جہاں میرے لوگ خونم خون ہیں۔میں اس خطے کے لیے بول رہا ہوں جسے عشروں سے ساہوکاروں نے اپنی جیل سمجھا ہے۔

آج میں لرزتی آواز میں نہیں بلکہ صدیوں بھرے افریقی درد سے لبریز آواز میں مخاطب ہوں۔ طویل عرصے سے آئی ایم ایف بیمار معیشتوں کی دوا کر رہا ہے۔مگر ہمارا تجربہ یہ ہے کہ یہ دوا اکثر جان لیوا ثابت ہوئی ہے۔بین الاقوامی قرضے مسکراتے معاہدوں میں لپٹے زہریلے تیر اور معاشی استحکام کے نام پر گلا دبانے کی کوشش ہیں۔ اصلاحات کا عملی مطلب غیرملکی لیبارٹریوں میں تیار کردہ ماڈلز کی تابعداری ہے۔مگر اب ہم اقتصادی بساط کے مہرے بننے پر تیار نہیں۔افریقہ کو جاگنے کے بعد سانس لینے کے لیے آپ کی اجازت درکار نہیں۔

کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ میں قرضوں کی تنسیخ کی بھیک مانگ رہا ہوں یا شرائط میں نرمی کی وکالت کر رہا ہوں۔میں وہ بتانے کی جرات کر رہا ہوں جو اکثر افریقی رہنما بتانے سے ہچکچاتے ہیں۔ ہمارے جواہرات سے مغرب کا خزانہ بھرتا رہے اور ہم ان کی شرائط پر ناچتے رہیں۔ہرگز نہیں۔ہم کسانوں کو اپاہج کرنے والی پالیسیوں اور نوجوانوں کو جنم بھومی چھوڑنے پر مجبور کرنے والی دھن پر اور نہیں تھرکنا چاہتے۔ اچھی گورنننس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اپنی قومی دولت بیرونی کمپنیوں کے مسکراتے مشیروں کے حوالے کر دی جائے۔

 ہم ایک نیا مکالمہ چاہتے ہیں۔ساہوکار اور مقروض کا نہیں بلکہ دو مساوی فریقوں کا مکالمہ۔ ابھرتا ہوا شعور ہمیں سمجھا رہا ہے کہ آپ جو قرضہ افریقہ کو پیش کر رہے ہیں وہ ترقی کا زینہ یا غربت پار کرانے والا پل نہیں بلکہ سوٹڈ بوٹڈ ہاتھوں میں سپریڈ شیٹس کی شکل میں نئی زنجیر ہے۔آپ جسے اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کہتے ہیں ہم اسے اسٹرکچرل سزا کہتے ہیں۔آپ جس شے کو مالیاتی نظم و ضبط کہتے ہیں ہم اسے نسل در نسل محرومی کا تسلسل سمجھتے ہیں۔آپ پارٹنر شپ کی بات کرتے ہیں۔مگر ایک پارٹنر مسلسل منافع میں ہو اور دوسرا نڈھال تو یہ شراکت داری نہیں لوٹ مار ہے۔

میرا سوال ہے کہ یورینیم ، کوبالٹ اور زرخیز زمین سے مالامال کوئی قوم آخر غریب کیسے ہو سکتی ہے ؟ کیسے ایک براعظم پوری دنیا کی صنعت کو ایندھن فراہم کرتا ہو مگر اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے سے قاصر ہو ؟

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اس کا سبب ہماری بدانتظامی ، بدعنوانی اور نا اہلی ہے۔یہ بات درست ہے کہ افریقہ ان ناسوروں کا مارا ہوا ہے۔ مگر ان میں سے متعدد زخم آپ کے ہاتھوں کی دین ہیں جو اب ہمیں ان علتوں کے علاج کے نام پر سود سے لتھڑے نسخے تھما رہے ہیں۔

میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی پاور پوائنٹ پریزنٹیشن والا دل کش قرضہ ہمارے گلی کوچوں میں کیا گل کھلا رہا ہے۔ہمارے بچے موم بتی کی روشنی میں پڑھ رہے ہیں کیونکہ بجلی کے نظام کو نجکاری کے نام پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے حوالے کر دیا گیا۔وہ بجلی کے ایسے نرخ مانگ رہے ہیں جو ہمارے لوگوں کے بس سے باہر ہیں۔

ٹوٹے بستروں سے اٹے اسپتال اینٹی بائیوٹک ادویات سے خالی ہیں۔عورتیں دورانِ زچگی مر رہی ہیں کیونکہ آپ کی شرط ہے کہ ہم عوامی صحت پر زیادہ نہ خرچ کریں۔لاکھوں گریجویٹس کا کوئی مستقبل نہیں کیونکہ ملازمتیں پیدا کرنے والے شعبے آؤٹ سورس ہو گئے یا بیچ دیے گئے یا آپ کی کھلی منڈی کی پالیسیوں تلے کچلے گئے۔

قرضوں کی واپسی کا آپ کا وضع کردہ منصوبہ حیات بخش نہیں بلکہ موت کا پروانہ ہے۔ آپ ہمیں پانچ سو ملین ڈالر تھما کر سالہاسال کی ری اسٹرکچرنگ فیس اس میں ڈال کے ہم سے دو بلین ڈالر وصول کرتے ہو۔آپ کہتے ہو کہ معاہدے باہمی رضامندی سے طے پاتے ہیں۔ یہ کیسی باہمی رضامندی ہے کہ مریض خونم خون ہو اور صرف آپ کے پاس وہ دوا ہو جو آپ من مانی قیمت پر بیچیں۔

محترم آئی ایم ایف ، یہ رضامندی نہیں معاشی دھونس ہے۔یہ ترقی نہیں تسلط ہے۔یہ عالمگیریت نہیں مالیاتی رسوں سے مسلح نیا نوآبادیاتی نظام ہے۔افریقیوں کی نئی نسل نابینا نہیں ۔ ہماری ہی محنت سے بنی میز پر پڑے ہماری ہی روٹی کے چند ٹکڑے ہمیں ہی عطا کرنے پر ہم آپ کے شکر گذار نہیں ہو سکتے۔ہم معاشی کارکردگی بہتر کرنے کے نام پر آپ کے فارمولوں پر تالیاں پیٹنے سے اوبھ چکے ہیں۔ہم اپنے نام پر لکھے جانے والے قرضے آپ کے ماہرین اور مشیروں کے ہاتھوں میں غائب ہونے اور پھر ان غائب قرضوں کے عوض اپنی آزادی کا سودا کرنے کو مزید تیار نہیں۔

افریقہ آپ کا نہیں بلکہ آپ افریقہ کے مقروض ہو۔ اس سونے کے مقروض ہو جو بھاری بھاری بوٹوں کے زور پر چھینا گیا۔ ان معدنیات کے مقروض ہو جو آپ کے اسمارٹ فون کو روشن رکھتی ہیں جب کہ ہمارے دیہات تاریکی جھیلتے ہیں۔ ان ہیروں کے مقروض ہو جن کی خاطر ہم لہولہان کیے جاتے ہیں۔

 ہم خیرات نہیں انصاف مانگ رہے ہیں اور انصاف کا تقاضا ہے کہ قرضوں کے استحصالی ڈھانچے کو سدھارا جائے۔انصاف کا مطلب ہمیں یہ جاننے کا حق ہے کہ آپ نے ہم سے کیا لیا اور ہم نے آپ سے کیا لیا ۔انصاف یہ ہے کہ ہمیں اپنا مالیاتی مستقبل وضع کرنے کی آزادی ہو۔اگر یہ باتیں آپ کو چبھ رہی ہیں تو یہ اچھی علامت ہے۔کیونکہ یہی وقت ہے کہ جو اس نظام سے مطمئن ہیں ان سے دوبدو بات کی جائے۔

افریقہ میں بہت سی ریاستیں اور بہت سے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔مگر خود مختاری کے بغیر آزادی وہم ہے۔بظاہر آپ ہم پر حکمران نہیں مگر ہمارا بجٹ آپ بناتے ہو۔آپ ہمارے انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالتے مگر یہ فیصلہ آپ کرتے ہو کہ ہماری معیشت ڈھ جائے یا سانس لیتی رہے۔ آپ ہمارے اندرونی معاملات میں غیر جانبداری کا دعوی کرتے ہو لیکن آپ کے ہی قلم کی روشنائی ہمارے قوانین لکھتی ہے۔آپ ہمارے منتخب رہنماؤں کو ان کی حدود بتاتے رہتے ہو۔یہ مدد نہیں سیاسی انجینیرنگ ہے۔

آپ بظاہر بموں کے بجائے بریف کیسوں اور ڈرائنگز سے مسلح آتے ہو مگر نقصان اتنا ہی پہنچاتے ہو۔ ٹیکنیکل زبان میں لپٹی آپ کی شرائط ایک سائلنسر لگی بندوق ہیں۔آپ کے سفارشاتی احکامات بہت دلکش ہیں۔سبسڈیز میں تخفیف کرو ، منڈیاں کھولو ، کرنسی کی قدر میں کمی کرو۔

مگر یہ کیسی سفارشات ہیں جن سے انکار کی قیمت بھک مری ہے۔یہ کیسی تجویز ہے جس کی تابعداری پر ہی اگلے قرضے کا دارو مدار ہے۔یہ بات ہم کب تک چھپائیں کہ آپ ہمارے اندرونی معاملات میں مکمل دخیل ہو۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کفائیت شعاری سے کرپشن ختم ہو جائے گی۔مگر یہ امید ختم کر رہی ہے۔ہمیں کہا جاتا ہے کہ کھلی منڈی ہمیں اوپر لے جائے گی۔مگر اس سے پیدا ہونے والی دولت سمندر پار منتقل ہو رہی ہے۔اور جب ہمارے لوگ احتجاج کرتے ہیں تو آپ بالکل لاتعلق ہو کے کہتے ہو کہ ہم تو بس مبصر ہیں۔ تاریخ سب تماشا دیکھ رہی ہے ’’۔   ( جاری ہے)

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجییے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیپٹن ترورے کے مقروض ہو نہیں بلکہ کے نام پر رہا ہوں رہے ہیں جاتا ہے ہے کہ ا ہے مگر رہا ہے ہیں ہم کے لیے کر رہا

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی