UrduPoint:
2026-07-24@06:56:09 GMT

ایلون مسک کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

ایلون مسک کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 جون2025ء)دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ٹیکسوں اور اخراجات سے متعلق بل کو گھنائونا اور شرمناک اقدام قرار دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وہ معذرت چاہتے ہیں لیکن مزید یہ برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کو شرم آنی چاہیے جنہوں نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، ان کو علم ہے کہانہوں نے غلط کیا ۔

ایکس پر ایک اور پوسٹ میں ایلون مسک نے ایوان کے حوالے سے کہا کہ کانگریس امریکا کو دیوالیہ کر رہی ہے۔ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں 129 دن کام کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جس کے بعد انہوں نے پہلی مرتبہ حکومتی پالیسی کے خلاف سخت بیان دیا ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ ٹیکسوں اور اخراجات کا بل ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعدان دنوں سینیٹ میں زیرِ بحث ہے۔

اس بل کے قانونی شکل اختیار کرنے کی صورت میں ان سبسڈیز میں بھی کمی آئے گی جن سے ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کو فائدہ پہنچتا رہا ہے۔پریس بریفنگ کے دوران جب وائٹ ہاس کی پریس سیکرٹری کیرولائین لیویٹ سے ایلون مسک کی تنقید کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صدر کو پہلے ہی بل کے حوالے سیایلون مسک کے مقف کا علم ہے، اس سے صدر کی رائے نہیں بدلے گی۔ یہ ایک بڑا، خوبصورت بل ہے اور وہ اس پر قائم ہیں۔ اس بل کی منظوری سے بجٹ خسارہ مزید بڑھ جائے گا،دفاعی اخراجات اور غیرقانونی تارکین کی ملک بدری کے لئے مزید فنڈز فراہم کئیجائیں گے جبکہ حکومت کی قرض لینے کی حد بھی چار کھرب ڈالر تک بڑھ جائے گی۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایلون مسک

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل