ایلون مسک کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 جون2025ء)دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ٹیکسوں اور اخراجات سے متعلق بل کو گھنائونا اور شرمناک اقدام قرار دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وہ معذرت چاہتے ہیں لیکن مزید یہ برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کو شرم آنی چاہیے جنہوں نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، ان کو علم ہے کہانہوں نے غلط کیا ۔
ایکس پر ایک اور پوسٹ میں ایلون مسک نے ایوان کے حوالے سے کہا کہ کانگریس امریکا کو دیوالیہ کر رہی ہے۔ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں 129 دن کام کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جس کے بعد انہوں نے پہلی مرتبہ حکومتی پالیسی کے خلاف سخت بیان دیا ہے۔(جاری ہے)
واضح رہے کہ ٹیکسوں اور اخراجات کا بل ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعدان دنوں سینیٹ میں زیرِ بحث ہے۔
اس بل کے قانونی شکل اختیار کرنے کی صورت میں ان سبسڈیز میں بھی کمی آئے گی جن سے ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کو فائدہ پہنچتا رہا ہے۔پریس بریفنگ کے دوران جب وائٹ ہاس کی پریس سیکرٹری کیرولائین لیویٹ سے ایلون مسک کی تنقید کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صدر کو پہلے ہی بل کے حوالے سیایلون مسک کے مقف کا علم ہے، اس سے صدر کی رائے نہیں بدلے گی۔ یہ ایک بڑا، خوبصورت بل ہے اور وہ اس پر قائم ہیں۔ اس بل کی منظوری سے بجٹ خسارہ مزید بڑھ جائے گا،دفاعی اخراجات اور غیرقانونی تارکین کی ملک بدری کے لئے مزید فنڈز فراہم کئیجائیں گے جبکہ حکومت کی قرض لینے کی حد بھی چار کھرب ڈالر تک بڑھ جائے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایلون مسک
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔