نوازشریف کے سابق ترجمان محمد زبیر کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
سابق گورنرسندھ اور نوازشریف کے سابق ترجمان محمد زبیر عمر کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن سے راہیں جُدا کرنے والے محمد زبیر کی تحریک انصاف میں جلد شمولیت متوقع ہے۔
محمد زبیر کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے متعلق مشاورت کر لی گئی ہے اور انہیں پارٹی میں شامل کرنے کے لیے بانی پی ٹی آئی نے گرین سگنل دے دیا ہے۔
محمد زبیر نے تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے اور بانی کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اس حوالے سے مزید مشاورت کرے گی۔
ترجمان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رؤف حسن نے دعویٰ کیا تھا کہ عارف علوی نے پیغام دیا کہ محمد زبیر پارٹی میں آنے کیلیے دلچسپی رکھتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں رؤف حسن نے کہا تھا کہ محمد زبیر پی ٹی آئی میں آنے کیلیے دلچسپی رکھتے ہیں تو بانی پی ٹی آئی سے گفتگو کی جائے گی، محمد زبیر کی شمولیت کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے۔
رؤف حسن نے کہا کہ جو لوگ پارٹی کو مشکل وقت میں چھوڑ گئے ان کی واپسی مشکل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: محمد زبیر کی میں شمولیت پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔