WE News:
2026-07-24@06:42:43 GMT

قربانی کے جانوروں کے دانتوں کی پہچان کیسے کی جاتی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT

قربانی کے جانوروں کے دانتوں کی پہچان کیسے کی جاتی ہے؟

دنیا بھر میں مسلمان ہر سال سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے عید الاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں جس کے لیے ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خوبصورت اور اچھا جانور اللّٰہ کی راہ میں قربان کرے، قربانی کے جانوروں میں خوبصورتی کے علاوہ جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے وہ اس کے دانت ہوتے ہیں۔

قربانی کا جانور 2 سال کی عمر یعنی 2 دانت رکھتے ہوئے قربانی کا اہل ہوتا ہے اس طرح جو 4 دانت کا جانور ہوتا ہے جس کی عمر تقریباً 3 سال کے قریب ہوتی ہے اس کی قیمت 2 سال کی عمر کے جانور کی نسبتاً کم ہوتی ہے اسی طرح 6 دانت والے جانور کی قیمت اس سے بھی کم اور پھر سب سے آخری 8 دانت والے کنیل جانور کی قیمت تو انتہائی کم ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

جانوروں کی پیدائش کے وقت ان کے منہ میں دودھ کے کل 8 دانت ہوتے ہیں، بکرا جب 14 ماہ کی عمر تک پہنچتا ہے تو اس کے دودھ کے سامنے والے 2 دانت ایک ایک کر کے گر جاتے ہیں اور پھر نیچے سے پکا دانت نکل آتا ہے، ایسے بکرے کو دوندا بکرا شمار کیا جاتا ہے اور قربانی کے لیے زیادہ پسند بھی کیا جاتا ہے۔

جبکہ بیل کی عمر 2 سال ہونا قربانی کے لیے شرط ہے، جبکہ بیل 2 سال 3 سے 4 ماہ کے بعد دودھ والا دانت گرا کر اپنا پکا دانت نکالتا ہے جس کے بعد اسے دوندا شمار کیا جاتا ہے، پہلے ایک دانت گرتا ہے پھر دوسرا دانت گرتا ہے اور اس طرح یہ دونوں دانت 2 سے 3 ماہ میں بڑے ہو جاتے ہیں اور پھر مستقل بڑے دانت نظر آتے ہیں جبکہ دیگر سائیڈ والے دانت چھوٹے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:

جانور 2 دانت ہونے کے 4 سے 5 ماہ کے بعد دونوں بڑے دانتوں کے اطراف کھڑے دانتوں میں سے ایک دانت گرا دیتا ہے اور پھر وہاں سے بھی ایک بڑا پکا دانت نکل آتا ہے اور ساتھ ہی دوسری سائیڈ سے بھی ایک دانت گرا کر ایک اور پکا دانت نکل آتا ہے ایسے جانور کو 4 دانت یعنی چوگا کہتے ہیں، اس جانور کی قیمت دوندے جانور کی نسبت قدرے کم ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق 4 دانت ہونے کے بعد جانور 3 سال کی عمر اور چھوٹا بکرا تقریباً 2 سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور عام لوگوں کا خیال ہے کہ بڑے جانور کا گوشت چھوٹے جانور کی نسبت سخت ہو جاتا ہے اسی وجہ سے اس بڑے جانور کی قیمت کم ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں:

چار دانت کے بعد اگلے 3 سے 4 ماہ کے بعد پھر بڑے 4 دانتوں کے اطراف کھڑے دانتوں میں سے ایک دانت گر جاتا ہے اور پھر دوسری طرف کا دانت بھی گر جاتا ہے اور نئے دانت نکل آتے ہیں، ایسے جانور کو 6 دانت یعنی چھگا کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد جانور بڑھاپے کی جانب بڑھ جاتا ہے اور آخر میں کھڑے 6 دانتوں کے اطراف دونوں دانت بھی اگلے 4 سے 5 ماہ کے بعد گرا دیتا ہے، ایسے جانور کو کنیل یا بوڑھا جانور کہا جاتا ہے، کنیل جانور تقریباً ساڑھے 4 سے 5 سال کی عمر میں ہوتا ہے اور ایسے جانوروں کو صرف بریڈنگ کے لیے رکھا جاتا ہے کیونکہ کچھ سالوں بعد بڑھاپے کے باعث جانوروں کے دانت گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بکرا بوڑھا بیل جانور دانت کنیل جانور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بوڑھا بیل کنیل جانور جانور کی قیمت جاتا ہے اور ایسے جانور ماہ کے بعد کم ہوتی ہے سال کی عمر قربانی کے پکا دانت ایک دانت دانت نکل اور پھر کا دانت کے لیے

پڑھیں:

مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں

بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں

بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔

مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں

انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔

اعتماد میں کمی کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا

رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔

حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گے

ماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔

اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنج

جیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب

رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت