اچھے کردار والے قیدیوں کی سزا میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سیکرٹری داخلہ نے قیدیوں کی سزا میں معافی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے قیدیوں کی سزا میں خصوصی معافی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کو 90 دن کی خصوصی معافی دی گئی اور سزا معافی کے حکم نامے سے 450 اسیران مستفید ہوں گے۔
پنجاب کی جیلوں سے 270 قیدی رہا ہو کر اہل خانہ کے ساتھ عید منائیں گے، سیکریٹری داخلہ پنجاب نے سزا میں معافی پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 216 کے مطابق دی۔
مخیر حضرات کی جانب سے نادار قیدیوں کے جرمانے کی ادائیگی اور اچھے کردار کے باعث بھی سزا میں کمی سے بھی قیدی رہا ہوئے ۔
واضح رہے کہ پریزن رولز کے مطابق سزا معافی کا حکم مخصوص قیدیوں پر لاگو ہوتا ہے، جن قیدیوں پر سزا میں معافی کا حکم لاگو نہیں ہوتا ان کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، ان میں دہشت گردی، فرقہ واریت، جاسوسی، بغاوت یا ریاست مخالف سرگرمی پر سزا یافتہ قیدی مستفید نہیں ہوں گے۔
اسی طرح قتل، زنا، منشیات فروشی، ڈکیتی، اغوا کے مجرمان اور مالی غبن اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مقدمات میں سزا یافتہ قیدی مستفید نہیں ہوں گے۔
قانون کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران جیل قوانین کی خلاف ورزی پر سزا پانے والے قیدی بھی مستفید نہیں ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: معافی کا کے مطابق ہوں گے
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔