کراچی کیلئے بجلی 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی( باقی ملک کیلئے 93 پیسے مہنگی)
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
نیپرانے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں سے متعلق الگ، الگ نوٹیفکیشن جاری کر دیے
کے الیکٹرک نے 5 روپے 2 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست جمع کرائی تھی، مکمل ریلیف نہیں مل سکا
کراچی کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں بجلی 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی جبکہ باقی ملک کے لیے 93 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں سے متعلق الگ، الگ نوٹیفکیشنز جاری کر دیے۔نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی کے لیے بجلی کی قیمت میں 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے، کراچی کے صارفین کو کمی کا ریلیف جون کے بلوں میں ملے گا۔مزید کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کے لیے بجلی مارچ 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں سستی کی گئی ہے۔واضح رہے کہ کے الیکٹرک نے 5 روپے 2 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست جمع کرائی تھی، مگر کراچی والوں کو مکمل ریلیف نہیں مل سکا۔نیپرا کی جانب سے جاری دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق باقی ملک کے لیے بجلی 93 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق ملک کے لیے اپریل 2025 کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔صارفین سے یہ اضافی وصولیاں جون کے بلوں میں کی جائیں گی، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے اپریل 2025 کی ایڈجسٹمنٹ میں ایک روپے 27 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ماہانہ ایڈجسٹمنٹ پیسے فی یونٹ کی گئی ہے میں بجلی بجلی کی کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔