وزیرِ اعظم شہباز شریف 2 روزہ دورہ سعودی عرب مکمل کرکے واپس پاکستان روانہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنا 2 روزہ دورہ سعودی عرب مکمل کرکے پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔
گورنر جدہ، شہزادہ سعود بن عبداللہ جلاوی، سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر نواف بن سعید المالکی، پاکستان کے سعودی عرب میں سفیر احمد فاروق اور اعلی سفارتی اہلکاروں نے جدہ ائیر پورٹ پر وزیرِ اعظم کو الوداع کیا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے شاہی دیوان میں دیے گئے ظہرانے میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ملاقات میں پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان گہرے اسٹریٹجک اور برادرانہ تعلقات کی توثیق کی گئی۔
سعودی ولی عہد نے وزیراعظم کا خصوصی استقبال کیا اور خود گاڑی چلا کر انہیں ظہرانے میں لے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: دورہ سعودی عرب: وزیراعظم شہباز شریف نے عمرہ کی سعادت حاصل کی
محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے وزیراعظم شہباز شریف کو ظہرانے میں پرجوش انداز میں خوش آمدید کہا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان غیر رسمی بات چیت بھی ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہباز شریف
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔