کاسمیٹکس اشیا چکھنے والی تائیوان کی 24 سالہ انفلوئنسر کی اچانک موت
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
تائیوان کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر 24 سالہ گواوا شوئی شوئی کی اچانک اور پُراسرار موت نے ان کے مداحوں کو غم زدہ کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تائیوان کی انفلوئنسرز کو سوشل میڈیا پر گواوا بیوٹی کے نام سے جانا جاتا تھا۔
ان کی انفرادیت یہ تھی کہ وہ بہت انوکھے اور کسی حد تک عجیب انداز سے ویڈیوز بناتی تھیں جس میں وہ مختلف بیوٹی پراڈکٹس کو چکھ کر ان کی خصوصیات بتاتی تھیں۔
ان کی ویڈیوز پر مداحوں کا تانتا بندھا رہتا تھا اور آج فالورز نے ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اہل خانہ کی جانب سے ان کی موت واقع ہونے کی پوسٹ دیکھی۔
تاہم اس پوسٹ میں انفلوئنسر کی موت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ اہل خانہ کے بقول موت کا تعلق میک اپ مصنوعات کھانے سے نہیں ہے۔
جہاں ان کے مداحوں کی کمی نہیں تھی وہیں بہت سے صارفین نے ان کی ویڈیوز پر اعتراض کرتے تھے کہ کیمیکل سے بنی کاسمیٹک اشیا کو چکھنا خطرے سے باہر نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔