ساحل کے سائے میں محرومیوں کی داستان
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، مگر سندھ جیسے صوبے میں، جہاں ناخواندگی کی شرح پہلے ہی تشویشناک حد تک بلند ہے، وہاں گھوسٹ اساتذہ اور گھوسٹ اسکولز کا ناسور تعلیمی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران متعدد رپورٹس نے یہ انکشاف کیا کہ محکمہ تعلیم سندھ میں ہزاروں اساتذہ ایسے ہیں جو نہ صرف ڈیوٹی سے مسلسل غیر حاضر ہیں بلکہ سرکاری خزانے سے باقاعدگی سے تنخواہیں بھی وصول کر رہے ہیں۔
اکتوبر 2024 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5,000 گھوسٹ اساتذہ کی شناخت کی گئی، جن میں سے بعض بیرون ملک مقیم تھے اور دو سال سے زائد عرصے سے اپنے اسکولز نہیں گئے، مگر ان کے اکاؤنٹس میں تنخواہیں باقاعدگی سے منتقل ہو رہی تھیں۔ یہ معاملہ صرف اساتذہ تک محدود نہیں۔ سندھ میں 1,459 گھوسٹ اسکولز کی بھی نشاندہی کی گئی، جو صرف کاغذی طور پر موجود تھے۔
نہ وہاں طلباء تھے، نہ اساتذہ، نہ تدریسی سرگرمیاں۔ اس کے باوجود ان کے لیے بجٹ مختص کیا جاتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کہاں گیا؟ کن جیبوں میں پہنچا؟ اور اس کا حساب کون دے گا؟ تعلیم کو بہتر بنانے کے بجائے، اسے منافع کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی، جیسے کہ بیت الخلا، پینے کا پانی، بجلی اور چار دیواری نہ ہونے کی بناء پر مزید اس صورتحال کو بد ترین بنا رہی ہے۔ 49,000 سے زائد اسکولز میں سے ہزاروں اسکول ایسے ہیں جہاں ایک بھی سہولت دستیاب نہیں۔ تعلیم، ہر بچے کا بنیادی حق ہے لیکن کراچی کے دیہی و ساحلی علاقوں میں یہ حق ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔
ان علاقوں میں نہ صرف تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے بلکہ جو اسکولز موجود ہیں ان کی حالت ایسی ہے جیسے وہ تعلیم کے بجائے حادثات کی آماج گاہ بن چکے ہوں۔ کراچی کے ساحلی علاقے مبارک ولیج کے سیکنڈری اسکول کی عمارت اسی تلخ حقیقت کی ایک خوفناک مثال ہے۔ 14 اپریل 2025 کو صبح 7 بج کر 42 منٹ پر جب بچے اسکول پہنچنے ہی والے تھے، بلڈنگ کے روم نمبر 3 کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ خوش قسمتی کہیے یا محض اتفاق کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس کے نیچے رکھی ہوئی میزیں،کرسیاں اور ڈیسک چکنا چور ہوگئیں۔
یہ حادثہ اگر صرف چند لمحے بعد پیش آتا، تو شاید کئی معصوم جانیں ملبے تلے آ جاتیں، یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے قبل بھی اسی اسکول کی دوسری عمارت سے چھت کا ملبہ گر چکا ہے۔ مگر افسوس کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی صرف آنکھیں بند کر کے ’’ شکر‘‘ ادا کیا گیا عملی اقدامات آج تک نہیں کیے گئے۔ مبارک ولیج کا اسکول صرف ایک عمارت نہیں، یہ ہزاروں ساحلی بچوں کے خوابوں کا مرکز ہے۔ مگر اب یہ خواب ایک خوف میں بدل چکے ہیں۔ بچے روز ملبے کے سائے تلے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ انھیں پڑھائی سے پہلے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ اگلا پتھر کب اور کہاں گرے گا۔
یہ صورتِ حال محض ایک اسکول کی نہیں، بلکہ کراچی کے بیش تر دیہی و ساحلی اسکولوں کی ہے، جہاں نہ بنیادی سہولیات موجود ہیں، نہ مرمت، نہ نگرانی اور نہ کوئی جواب دہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان بچوں کا قصور یہ ہے کہ وہ شہرکے مضافات میں پیدا ہوئے؟ کیا تعلیم صرف شہر کے پوش علاقوں میں بسنے والے بچوں کا حق ہے؟ یہ حالات نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ شرمناک بھی۔ اگر ہم نے فوری طور پر اسکولوں کی مرمت، بحالی اور سیکیورٹی پر توجہ نہ دی، تو وہ دن دور نہیں جب کسی بچے کا خواب صرف کتابوں میں دفن نہیں ہوگا، بلکہ وہ خود کسی چھت کے ملبے تلے دب جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ سندھ، محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں، اسکول کی مرمت کروائیں، اور پورے کراچی میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا ہنگامی آڈٹ کروایا جائے،کیونکہ تعلیم تب ہی ممکن ہے جب زندگی محفوظ ہو اور فی الحال، مبارک ولیج کے بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ یہ بات حیران کن بھی ہے اور افسوسناک بھی کہ یہ کراچی کی ساحلی بستیاں پیپلز پارٹی کا گڑھ رہی ہیں، پیپلز پارٹی نے دہائیوں تک یہاں سے ووٹ لیے، مگر بدلے میں ان بستیوں کو محرومیوں کا ایندھن بنا دیا۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی، جو سندھ پر پچھلے کئی برسوں سے بلاشرکت غیرے حکومت کر رہی ہے، ان ساحلی بستیوں کی محرومی کی سب سے بڑی شریک ہے۔
یہ وہ علاقے ہیں جہاں اسکول کی عمارتیں کھنڈرات میں بدل چکی ہیں، اسپتال یا تو ہیں ہی نہیں یا محض نام کے ہیں۔ حاملہ خواتین کو شہرکے مرکزی اسپتال پہنچنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں، کئی بچے صرف اس لیے اسکول نہیں جا پاتے کہ ان کے علاقے میں کوئی معیاری اسکول ہی موجود نہیں۔ اکثر مقامی افراد اپنی کشتیوں، روزمرہ مزدوری یا ماہی گیری پر انحصار کرتے ہیں، مگر حکومت کی جانب سے نہ ان کے روزگار کے لیے کوئی پالیسی ہے، نہ سہارا۔ کیا صرف ووٹ لینے کے لیے ان بستیوں کا وجود یاد رکھا جائے گا؟ کیا یہ لوگ پاکستانی شہری نہیں؟ کیا ان کے بچوں کا خواب، ایک بہتر زندگی کا حق، صرف انتخابی منشور میں چند سطروں تک محدود رہے گا؟ پیپلز پارٹی کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے آبائی گاؤں دادو کی یہ خبر پورے سندھ میں شعبہ تعلیم میں عدم شفافیت کی نشاندہی کررہی ہے کہ دادو میں محکمہ تعلیم نے 2021میں ہونے والی جعلی بھرتیوں کے بارے میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اس خبر میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے اعلیٰ افسران پر مشتمل ایک کمیٹی ان جعلی اساتذہ کے بارے میں تحقیقات کر کے 15 دن میں سیکریٹری تعلیم کو رپورٹ پیش کرے گی۔ اگلے ہفتے سندھ کے نئے مالیاتی بجٹ کا اعلان ہوگا۔
ضروری ہے کہ نئے بجٹ میں کراچی کے ساحلی علاقوں کے اسکولوں کی تعمیر، مرمت اور ان اسکولوں میں سائنسی لیب کے قیام کے لیے رقم مختص کی جائے۔ اس طرح ساحلی علاقوں میں اسپتالوں کے قیام اور ایمبولینس سروس کے لیے بھی خاطرخواہ رقم مختص ہونی چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ اس رقم کو شفاف طریقے سے استعمال کے طریقہ کارکی ذاتی طور پر نگرانی کریں۔ کراچی کی ساحلی بستیاں آج بھی پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتی ہیں۔ شاید ایک امید کے سہارے۔ مگر اگر یہ امید بار بار ٹوٹتی رہی، تو یہ خاموش سمندر ایک دن طوفان بھی بن سکتا ہے،کیونکہ جب ریاست اپنے شہریوں کو مسلسل نظر انداز کرتی ہے، تو پھر وہ شہری سوال کرنا سیکھتے ہیں اورکبھی کبھی انقلاب بھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی علاقوں میں کراچی کے اسکول کی یہ ہے کہ سندھ کے کے لیے
پڑھیں:
صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش
سٹی 42:صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش کی
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بلوچستان میں 17 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلا جائے گا۔سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پوری قوم کو اپنے جوانوں پر فخر کرتی ہے۔آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کی ۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا ۔ محسن نقوی نے کہا سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے بلوچستان میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر مان ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17 فتنتہ الھندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہیں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں فتنۂ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ صدرِ مملکت نے مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سراہا ۔ صدر مملکت نے کہا ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا اولین ترجیح ہے۔فتنۂ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ