سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی، کھالوں کے حوالے سے پولیس کی اہم ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
سٹی42: عید الاضحیٰ پر سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کا سلسلہ پورے صوبے میں بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب نے قربانی کی کھالوں کے بارے میں اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ شہری قربانی کی کھالیں صرف منظور شدہ اداروں یا فلاحی تنظیموں کو ہی دیں، نامعلوم یا غیر مجاز افراد کو ہرگز نہ دیں۔ کالعدم تنظیموں کو کھالیں دینا یا کسی بھی صورت میں ان کی معاونت کرنا قانونی جرم ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ زبردستی یا دھمکی دے کر کھالیں اکٹھی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی جگہ ایسی غیر قانونی سرگرمی دیکھیں تو فوراً 15 یا قریبی پولیس اسٹیشن کو اطلاع دیں۔
پولیس کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی قربانیوں کے جذبے کو ضائع نہ ہونے دیں اور کھالوں کے عطیات دیتے وقت قانونی تقاضوں اور قومی سیکیورٹی کو ہر حال میں مدنظر رکھیں۔
عید قربان پر قومی کرکٹرز کی مبارکباد، نیک تمناؤں کا اظہار
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔