کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)ترجمان ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان رفیع الحق نے آلائشوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں کارآمد بنا کر پودوں کی کھاد بنانے کا ماشورہ دیا ہے۔
 نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اپنے ایک بیان میں ترجمان ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان  رفیع الحق کا کہنا تھا کہ مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے سے آلائشیں ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں کا سبب بنتی ہیں لہٰذا آلائشوں کو ضائع نہ کریں ان سے پودوں کیلئے کھاد بنائیں۔
رفیع الحق کے مطابق  آلائشوں کو ماحول دوست انداز میں استعمال کر کے زمین کی زرخیزی بڑھائی جا سکتی ہے جبکہ تربیت یافتہ افراد، ادارے ، شعبہ باغات اور  زرعی ادارے اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آلائشوں سے کھاد کیسی بنائی جائے:ترجمان ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان رفیع الحق  نے کہا کہ آنتیں،گوشت کے ٹکڑوں، خون، سبزیوں کے چھلکوں، پتوں اور مٹی کو ملاکر کمپوزٹ تیار کیاجاسکتا ہے، یہ کھاد کسی بھی پارک کےکونے میں  تیار کی جا سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کھاد بنانے کیلئے  آلائشیں، پتیاں، گھاس اور مٹی تہہ بہ تہہ رکھیں، 40 سے 60 دن میں اعلیٰ معیار کی کھاد تیار ہو جاتی ہے۔
رفیع الحق  کا مزید کہنا تھا کہ  جانوروں کا خون نائٹروجن سے بھرپور ہوتا ہے، جانوروں کے خون کو بطور مائع کھاد استعمال کیا جا سکتا ہے جو پودوں کے لیے بہترین خوراک ہے، مائع کھاد سبز پتوں والے پودوں کے لیے مفید ہے، مزید برآں جانوروں کی ہڈیوں کو پیس کر "بون میل"بھی بنایا جاتا ہے جو فاسفورس اور کیلشیم سے بھرپور کھاد ہے۔

برف میں جما گوشت گھنٹوں کے بجائے منٹوں میں کیسے پگھلائیں؟ طریقہ جانیں

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: رفیع الحق

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان