1 اعشاریہ 9 بلین کا تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ، اقتصادی سروے
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
پاکستان نے 1 اعشاریہ 9 بلین ڈالرز کا تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے جاری کر دیا۔
اقتصادی سروے 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی کارکردگی بتائی گئی ہے، جس کے مطابق پاکستان نے 1 اعشاریہ 9 بلین ڈالرز کا تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا۔
اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق برآمدات میں 6 اعشاریہ 8 فیصد اضافہ ہوا، جس میں ٹیکسٹائل برآمدات کا حصہ 53 فیصد رہا جبکہ درآمدات کا حجم 48 اعشاریہ 6 ارب ڈالر رہا۔
سابق نگراں وزیر خزانہ گوہر اعجاز نے ملک میں اقتصادی استحکا اور برآمدات کی ترقی کا روڈ میپ پیش کردیا۔
سروے رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر 31 فیصد بڑھ کر 31 اعشاریہ 2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ زرمبادلہ ذخائر 27 مئی 2025ء تک 16 اعشاریہ 6 ارب ڈالر رہے۔
اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق یوکرین اور مشرق وسطیٰ تنازعات کے سبب عالمی تجارت متاثر ہوئی، بھارت کے ساتھ جغرافیائی سیاسی تناؤ بڑھا، جس سے معاشی استحکام متاثر ہوا۔
سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اسٹریٹجک حکمت عملی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا، ڈالر کی اوسط شرح مبادلہ 278 اعشاریہ 75 روپے رہی۔
رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی 1 ارب 2 کروڑ ڈالر کی قسط نے مارکیٹ کا اعتماد بڑھایا ہے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری معمولی کمی سے 1 اعشاریہ 8 ارب ڈالر رہی۔
اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں کمی برینٹ کروڈ 64 ڈالر فی بیرل رہنے سے درآمدی بل کم ہوا ہے، خام تیل کی کم قیمتوں سے مہنگائی کم ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سروے رپورٹ کے مطابق اقتصادی سروے کرنٹ اکاو نٹ ارب ڈالر
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔