لاس اینجلس میں ہنگامے شدت اختیار کر گئے، پولیس کی مظاہرین کے خلاف کارروائیاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جون2025ء)امریکی ریاست لاوس اینجلس میں بدھ کے روز امریکی پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان مظاہروں کا مقصد صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں کے خلاف احتجاج تھا۔عرب ٹی وی کے مطابق مظاہرین جب غیر قانونی تارکین وطن کے حراستی مرکز کے قریب پہنچے تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
میڈیا کی کوریج پر بھی قدغن لگائی گئی اور صحافیوں کو پوچھ گچھ کے بعد جیل بھیجنے کی دھمکیاں دی گئیں۔مظاہرین میں سے بعض افراد نے امریکی پرچم الٹا لہرا کر "ریاستی نظام کے خاتمی" کا پیغام دینے کی کوشش کی۔ شہر کی کئی گلیوں میں مظاہروں کے دوران پرتشدد عناصر نے دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، سامان لوٹا اور کاروباری املاک کو نقصان پہنچایا، جبکہ دیگر مظاہرین نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔(جاری ہے)
ایپل اسٹور سمیت متعدد دکانیں لوٹ مار کے بعد بند ہو گئیں، کئی کاروباروں نے چوری سے بچنے کے لیے لکڑی کے تختے لگا دیے، جبکہ کچھ دکانیں مکمل طور پر خالی کر دی گئیں۔العربیہ کی نامہ نگار نے حالات کو "جنگی منظرنامی" سے تعبیر کیا۔امریکی میرین فورس کی تعیناتی پر ہونے والی تنقید کے جواب میں واضح کیا گیا کہ یہ فورس صرف وفاقی املاک، سرکاری عمارتوں اور حراستی مراکز کی حفاظت تک محدود ہے، جبکہ سڑکوں پر ان کی تعیناتی کا اختیار صرف کیلیفورنیا کی پولیس کے پاس ہے۔پولیس کی "فسادیوں" سے نمٹنے کی ذمہ داری بدستور برقرار ہے، تاہم میرین فورس صرف اس صورت میں ردعمل دیتی ہے جب ان پر براہِ راست حملہ کیا جائے۔یہ تمام پیشرفت اس وقت ہو رہی ہے جب کیلیفورنیا کی حکومت نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ فوج کو سڑکوں پر تعینات کرنے سے روکنے کے لیے حکم جاری کیا جائے۔ گورنر گیون نیوسم نے فوجی اہلکاروں کو شہروں میں تعینات کرنے کے عمل کو "جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے لیے خطرہ" قرار دیا ہے۔لاس اینجلس کی میئر کارن باس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو احتجاج روکنے کے لیے "تجربہ گاہ" بنا دیا گیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گورنر گیون نیوسم اور میئر کارن باس پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ العربیہ/الحدث کے نامہ نگاروں کے مطابق موجودہ سکیورٹی بحران نے نیوسم کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے، جنہوں نے خود کو "عملی سیاستدان" قرار دیا ہے، جو کہ ممکنہ صدارتی امیدوار کے طور پر ان کی پوزیشن مضبوط بنا سکتا ہے۔نیوسم اور ٹرمپ کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی دونوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، کیونکہ ٹرمپ کو ایک مضبوط جمہوری حریف کی تلاش ہے، جبکہ نیوسم خود کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔یہ مظاہرے چھ جون سے جاری ہیں، جو ٹرمپ کی تارکین وطن مخالف پالیسیوں کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔ یہ مظاہرے ٹیکساس کے شہروں ڈلاس اور آسٹن تک بھی پھیل گئے تھے، تاہم وہاں اب شدت میں کمی آئی ہے۔دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر دو ہزار اضافی نیشنل گارڈز لاس اینجلس میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔ شمالی امریکہ کی عسکری قیادت کے مطابق، "ٹاسک فورس 51" کے نام سے جاری اس آپریشن میں تقریبا 2100 نیشنل گارڈز اور 700 فعال میرینز شامل ہیں۔تاہم کیلیفورنیا کی ریاست نے صدر ٹرمپ کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ اقدام لاس اینجلس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لاس اینجلس کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔