معروف ٹک ٹاکر کھابے لامے کی امریکا میں گرفتاری اور پھر ملک بدری، اصل معاملہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
دنیا کے سب سے مشہور ٹک ٹاک اسٹار کھابے لامےکو امریکا میں ویزا کی مدت سے زیادہ قیام پر امیگریشن حکام نے حراست میں لینے کے بعد ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی۔
سینیگالی نژاد اطالوی سوشل میڈیا اسٹار کو امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے جمعے کے روز لاس ویگاس کے ہیری ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حراست میں لیا تھا، وہ 30 اپریل کو امریکا پہنچے تھے اور ان پر ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔
Complex has independently confirmed that Khaby Lame was detained by ICE in Las Vegas after he “overstayed” his visa.
Lame was granted voluntary departure and has “since departed the US," authorities said. pic.twitter.com/66qgZCURvP
— Complex Pop Culture (@ComplexPop) June 8, 2025
امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے ترجمان کے مطابق کھابے لامےکو ملک بدر نہیں کیا گیا بلکہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑنے کا فیصلہ کیا، جس سے ان کے امیگریشن ریکارڈ پر باضابطہ ڈی پورٹیشن کی مہر نہیں لگے گی، بصورتِ دیگر انہیں آئندہ 10 سال تک امریکا داخل ہونے سے روکا جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
کھابے لامےکی حراست ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر لاس اینجلس میں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے چھاپوں اور نیشنل گارڈ کی تعیناتی نے مظاہروں کو جنم دیا ہے۔
گورنر گیون نیوزوم نے ٹرمپ کے ان اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کھابے لامےکون ہیں؟کھابے لامےسینیگال میں پیدا ہوئے اور بچپن میں اپنے والدین کے ہمراہ اٹلی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے اٹلی کے شہر کیواسو میں ایک فیکٹری میں ملازمت کی، مگر کووڈ کے دوران ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
فارغ وقت میں انہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنانا شروع کیں اور جلد ہی ’بغیر کچھ کہے‘ یعنی آواز کے بغیر پیچیدہ لائف ہیکس پر مزاحیہ ردعمل دینے والے اسٹائل سے دنیا بھر میں مشہور ہو گئے، اس وقت ان کے صرف ٹک ٹاک پر 162 ملین سے زائد فالوورز ہیں۔
مزید پڑھیں:
سال 2022 میں وہ اطالوی شہریت حاصل کر چکے ہیں اور مشہور برانڈ ہوگو باس کے ساتھ معاہدہ بھی کر چکے ہیں، رواں سال جنوری میں انہیں یونیسف کا خیرسگالی سفیر مقرر کیا گیا، اور گزشتہ ماہ وہ میٹ گالا جیسے عالمی ایونٹ میں شرکت کے لیے نیویارک بھی آئے تھے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کھابے لامےکب دوبارہ امریکا کا سفر کر پاتے ہیں، تاہم ان کی حراست اور روانگی نے ایک بار پھر امریکی امیگریشن پالیسیوں اور ان کے اثرات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امیگریشن خلاف ورزی سینیگال کھابے لامے گرفتاری ملک بدری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امیگریشن خلاف ورزی سینیگال کھابے لامے گرفتاری ملک بدری
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔