دنیا کے سب سے مشہور ٹک ٹاک اسٹار کھابے لامےکو امریکا میں ویزا کی مدت سے زیادہ قیام پر امیگریشن حکام نے حراست میں لینے کے بعد ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی۔

سینیگالی نژاد اطالوی سوشل میڈیا اسٹار کو امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے جمعے کے روز لاس ویگاس کے ہیری ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حراست میں لیا تھا، وہ 30 اپریل کو امریکا پہنچے تھے اور ان پر ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔

Complex has independently confirmed that Khaby Lame was detained by ICE in Las Vegas after he “overstayed” his visa.

Lame was granted voluntary departure and has “since departed the US," authorities said. pic.twitter.com/66qgZCURvP

— Complex Pop Culture (@ComplexPop) June 8, 2025

امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے ترجمان کے مطابق کھابے لامےکو ملک بدر نہیں کیا گیا بلکہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑنے کا فیصلہ کیا، جس سے ان کے امیگریشن ریکارڈ پر باضابطہ ڈی پورٹیشن کی مہر نہیں لگے گی، بصورتِ دیگر انہیں آئندہ 10 سال تک امریکا داخل ہونے سے روکا جا سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

کھابے لامےکی حراست ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر لاس اینجلس میں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے چھاپوں اور نیشنل گارڈ کی تعیناتی نے مظاہروں کو جنم دیا ہے۔

گورنر گیون نیوزوم نے ٹرمپ کے ان اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کھابے لامےکون ہیں؟

کھابے لامےسینیگال میں پیدا ہوئے اور بچپن میں اپنے والدین کے ہمراہ اٹلی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے اٹلی کے شہر کیواسو میں ایک فیکٹری میں ملازمت کی، مگر کووڈ کے دوران ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔

فارغ وقت میں انہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنانا شروع کیں اور جلد ہی ’بغیر کچھ کہے‘ یعنی آواز کے بغیر پیچیدہ لائف ہیکس پر مزاحیہ ردعمل دینے والے اسٹائل سے دنیا بھر میں مشہور ہو گئے، اس وقت ان کے صرف ٹک ٹاک پر 162 ملین سے زائد فالوورز ہیں۔

مزید پڑھیں:

سال 2022 میں وہ اطالوی شہریت حاصل کر چکے ہیں اور مشہور برانڈ ہوگو باس کے ساتھ معاہدہ بھی کر چکے ہیں، رواں سال جنوری میں انہیں یونیسف کا خیرسگالی سفیر مقرر کیا گیا، اور گزشتہ ماہ وہ میٹ گالا جیسے عالمی ایونٹ میں شرکت کے لیے نیویارک بھی آئے تھے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کھابے لامےکب دوبارہ امریکا کا سفر کر پاتے ہیں، تاہم ان کی حراست اور روانگی نے ایک بار پھر امریکی امیگریشن پالیسیوں اور ان کے اثرات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امیگریشن خلاف ورزی سینیگال کھابے لامے گرفتاری ملک بدری

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا امیگریشن خلاف ورزی سینیگال کھابے لامے گرفتاری ملک بدری

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا