عاصم اظہر اور میرب علی کا منگنی ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
معروف گلوکار عاصم اظہر نے باقاعدہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اُن کی اور اداکارہ میرُب علی کی منگنی ختم ہو چکی ہے۔
پاکستان شوبز کی اس مشہور جوڑی نے باہمی رضامندی سے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان عاصم اظہر نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ اُن کے درمیان کچھ خوبصورت لمحات اور ایک مشترکہ مستقبل کی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن زندگی نے ایک مختلف رُخ اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں نے سوچ سمجھ کر اور باہمی احترام کے ساتھ کیا ہے جس میں دونوں خاندانوں کو بھی شامل کیا ہے۔ انہوں نے مداحوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس ذاتی معاملے میں اُن کی پرائیویسی کا احترام کریں اور کسی قسم کی قیاس آرائی سے گریز کریں۔
عاصم اظہر نے اپنے مداحوں اور چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہمیشہ اُنہیں محبت دی اور ان کو بطور جوڑی سپورٹ کیا۔
گلوکار کی جانب سے یہ اعلان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی ہے اور دونوں فنکاروں کے مداح مایوس نظر آرہے ہیں جبکہ کئی سوشل میڈیا صارفین میرب علی اور عاصم اظہر سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس فیصلے کی وجہ بھی دریافت کر رہے ہیں۔
https://www.instagram.com/p/DKx_O_BoVId/
یاد رہے کہ عاصم اظہر اس سے قبل معروف اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ قریبی تعلقات میں تھے اور ان کی بریک اپ کی خبر نے بھی سوشل میڈیا پر خوب توجہ حاصل کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کیا ہے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔