’ٹائٹن آبدوز‘ کے دلخراش سانحے پر بنی دستاویزی فلم ریلیز، سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
بحرِ اوقیانوس کی تاریک گہرائیوں میں تباہ ہونے والی آبدوز ’ٹائٹن‘ کی حقیقی کہانی پر مبنی نیٹ فلکس کی نئی دستاویزی فلم ’ٹائٹن: دی اوشین گیٹ ڈیزاسٹر‘ ریلیز کر دی گئی ہے۔
نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری "Titan: The OceanGate Disaster" ٹائٹن آبدوز سانحے کی وجوہات پر روشنی ڈالتی ہے جو جون 2023 میں پیش آیا تھا۔
یہ آبدوز جو مشہور ٹائٹینک کے ملبے تک جانے والے ایک تجارتی مشن پر روانہ ہوئی تھی، تقریباً 90 منٹ بعد سمندر کی 3,300 میٹر گہرائی میں تباہ ہوگئی تھی۔ حادثے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں معروف برطانوی مہم جو حامش ہارڈنگ، پاکستانی نژاد بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کا بیٹا، فرانسیسی غوطہ خور پال ہنری اور آبدوز کے مالک اسٹاکٹن رش شامل تھے۔
View this post on InstagramA post shared by Netflix India (@netflix_in)
دستاویزی فلم میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آبدوز کے کاربن فائبر ڈھانچے میں شروع سے ہی سنگین تکنیکی خامیاں موجود تھیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈیزائن شروع سے ہی خطرناک تھا اور سمندر کی تہہ میں ہر غوطہ اس کے لیے ایک نیا خطرہ تھا۔
ڈاکیومنٹری میں اوشین گیٹ کمپنی کی ویڈیوز، ڈیٹا اور سابق ملازمین کی گواہیاں شامل کی گئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی کے بانی نے حفاظتی خدشات کو نظرانداز کیا تھا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر عام لوگ ان فیصلوں سے واقف ہوتے تو آبدوز میں سوار ہونے سے گریز کرتے اور اس دلخراش حادثے کا شکار ہونے سے بچ جاتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔
واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا