Daily Ausaf:
2026-07-24@01:08:21 GMT

واٹس ایپ میں بہترین فیچر متعارف

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

واٹس ایپ میں ایک نیا اور کارآمد فیچر متعارف کرایا جا رہا ہے۔
اس فیچر کا مقصد صارفین کو ایسے پیغامات مکمل کرکے بھیجنے میں مدد فراہم کرنا ہے جو وہ کسی چیٹ میں لکھ کر سینڈ کرنا بھول جاتے ہیں۔
WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق اس فیچر کا مقصد صارفین کو ایک آسان اور مؤثر طریقہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے نامکمل میسجز کو تلاش کرکے بھیج سکیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ یہ فیچر اس وقت بہت زیادہ مددگار ثابت ہوگا جب صارف کسی وجہ سے میسج ٹائپ کرتے ہوئے کسی اور کام میں مصروف ہو جائے یا وہ سینڈ بٹن کلک کرنا بھول جائے۔
یہ فیچر اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ کے نئے بیٹا (beta) ورژن میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔
اس فیچر کے تحت واٹس ایپ میں ایک مخصوص چیٹ فلٹر متعارف کرایا جائے گا جس میں وہ تمام میسجز موجود ہوں گے جو چیٹس میں ڈرافٹ ہوں گے۔
ابھی ان ڈرافٹ میسجز کو تلاش کرنے کے لیے صارفین کو پوری چیٹ لسٹ میں اسکرول کرنا پڑتا ہے جس میں کافی وقت ضائع ہوتا ہے، خاص طور پر ان افراد کو مشکل کا سامنا ہوتا ہے جن کے واٹس ایپ اکاؤنٹ میں چیٹس کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔
یہ ڈرافٹس فلٹر واٹس ایپ کے دیگر فلٹرز جیسے ان ریڈ (unread)، گروپس، آل اور دیگر کے ساتھ موجود ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈرافٹ فلٹر پری سیٹ آپشن ہوگا یعنی صارف خود اسے سیٹ نہیں کرسکیں گے بلکہ ایسا کمپنی کی جانب سے کیا جائے گا اور تمام ڈرافٹ میسجز خودکار طور پر اس میں شو ہوں گے۔
البتہ صارف اس ڈرافٹ فلٹر کو کسی بھی ڈس ایبل ضرور کرسکے گا۔
اس فیچر کی آزمائش ابھی بیٹا ورژن میں کی جا رہی ہے تو اسے کب تک تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا، یہ کہنا ابھی مشکل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: متعارف کرایا واٹس ایپ اس فیچر

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن