اقوامِ متحدہ، جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
نیویارک:
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، جس میں انسانی امداد تک رسائی کو بھی یقینی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا نے گزشتہ ہفتے سلامتی کونسل میں اسی نوعیت کی قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔
193 رکنی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی اس قرارداد کے حق میں پاکستان سمیت 149 ممالک نے ووٹ دیے، جب کہ 19 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ امریکہ، اسرائیل اور 10 دیگر ممالک نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ شہریوں کو بھوکا رکھنا جنگی حربے کے طور پر قابل مذمت ہے اور انسانی امداد تک غیر قانونی رکاوٹیں، یا شہریوں کو بقا کے لیے لازمی اشیاء سے محروم رکھنا ناقابل قبول ہے۔
اس میں حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کی فوری رہائی، اسرائیل میں قید فلسطینی قیدیوں کی واپسی اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر دینی ڈینن نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس قرارداد کو خونی بہتان قرار دیا اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس تماشے کا حصہ نہ بنیں۔
ان کے بقول یرغمالیوں کی رہائی کو جنگ بندی سے مشروط نہ کرنا دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ شہریوں کو اغوا کرنا کارگر ثابت ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ جنرل اسمبلی کی قراردادیں قانونی طور پر پابند نہیں ہوتیں، مگر وہ دنیا بھر کے رائے عامہ کی عکاسی ضرور کرتی ہیں۔
اس سے قبل بھی جنرل اسمبلی نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے مطالبے کیے تھے، جنہیں نظرانداز کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیر طاہر السنّی نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ جو ممالک آج اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیں گے ان کی انگلیوں پر خون کا دھبہ ہوگا۔
امریکہ نے گزشتہ ہفتے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اسی طرح کی قرارداد کو یہ کہہ کر ویٹو کر دیا تھا کہ یہ امریکی قیادت میں جاری جنگ بندی مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
پاکستان نے اپنے اصولی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے اس قرارداد کی حمایت کی اور اس کے حق میں ووٹ دیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے ایک بار پھر فلسطینی عوام سے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد محض خواہشات کا اظہار نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی اجتماعی قانونی و اخلاقی ذمہ داریوں کا اعتراف ہے۔
پاکستان فلسطینی عوام کے وقار، حقِ خود ارادیت اور انصاف کے لیے اُس وقت تک کھڑا رہے گا جب تک ان کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور متحد فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، قائم نہیں ہو جاتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنرل اسمبلی کی قرارداد
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین