سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن کا شہید بینظیر آباد میں ریجنل پارٹنرزکانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">پڈعیدن (نمائندہ جسارت) سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا شہید بینظیرآباد میں ریجنل پارٹنرز کانفرنس کا انعقاد تعلیم تک رسائی اور معیار کو بہتر بنانے کا عزم ، وزیر اعلیٰ سندھ، چیف سیکرٹری سندھ اور وزیر تعلیم سندھ کی ہدایات اور وڑن کے تحت سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (SEF) کی جانب سے ریجنل پارٹنرز کانفرنس کا انعقاد ایچ ایم خواجہ آڈیٹوریم، شہید بینظیرآباد میں کیا گیا، جس کا مقصد صوبے میں معیاری، مساوی اور پائیدار تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ اس اہم اجلاس میں شہید بینظیرآباد، سانگھڑ اور نوشہرو فیروز کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے 250 سے زائد ادارہ جاتی اور کمیونٹی پارٹنرز نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت منیجنگ ڈائریکٹر سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن گھنور علی لغاری نے کی۔ افتتاحی خطاب ریجنل ہیڈ (شہید بینظیرآباد) نے کیا، جنہوں نے علاقائی تعلیمی پروگرامز، کارکردگی، اور ترجیحات پر جامع بریفنگ دی۔ اپنے کلیدی خطاب میں گھنور لغاری نے SEF کے پارٹنرز کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا، اکیڈمک اسٹینڈرڈز کو بلند کرنا، اور بچوں کے لیے دوستانہ، محفوظ اور شمولیتی تعلیمی ماحول فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن نے آؤٹ آف اسکول بچوں کو اسکول لانے کے لیے نئے اسکولوں کے قیام کے لیے اپنے قواعد میں نرمی کی ہے۔ ہم نے 180 سے زائد اسکولوں کو اپ گریڈ کیا ہے اور 31 سے زائد سیکنڈ شفٹ اسکولوں کے قیام کی منظوری دی ہے تاکہ موجودہ وسائل کو استعمال میں لا کر تعلیم کی رسائی کو بڑھایا جا سکے، انہوں نے کہا مانیٹرنگ اور آپریشنل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے انہوں نے SEF میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور دیا اور یقین دلایا کہ پارٹنر اسکولوں کو کتب کی بروقت فراہمی فاؤنڈیشن کی اولین ترجیح ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر گھنور لغاری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارٹنرز اور فاؤنڈیشن دونوں کو شراکت داری کے معاہدے کی مکمل پابندی یقینی بنانی ہوگی شراکتی معاہدے کی شرائط پر دونوں فریقین کی طرف سے مکمل عملدرآمد ضروری ہے، انہوں نے کہا اب سے فاؤنڈیشن کی پروگرام ٹیم ہر ماہ دو بار اسکولوں کا دورہ کرے گی، جبکہ سال میں دو مرتبہ جامع مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ اسکولوں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پروگرامز و پلاننگ، SEF نثار احمد بانبھن نے بچوں کی جذباتی اور تعلیمی فلاح پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا بچوں میں سیکھنے کا شوق صرف اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے جب وہ ایک محفوظ، پرکشش اور دوستانہ ماحول میں تعلیم حاصل کریں، انہوں نے کہا ایک حقیقی اسکول وہی ہوتا ہے جہاں بچہ خود کو محفوظ اور جذباتی طور پر جڑا ہوا محسوس کرے، جہاں کا ماحول خود اس کے سیکھنے کے سفر کا رفیق بن جائے۔ کانفرنس کا اختتام ایک انٹرایکٹو سیشن کے ساتھ ہوا، جس میں پارٹنرز نے اپنے تجربات، تجاویز، اور فاؤنڈیشن کے مشن سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر SEF کی جدید، شمولیتی، اور اعلیٰ معیار کی تعلیمی حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہید بینظیرا باد سندھ ایجوکیشن انہوں نے کہا فاو نڈیشن کے لیے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔